خطبات محمود (جلد 8) — Page 365
365 حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ لوگ جو دعاؤں کے عادی ہیں اور قبولیت دعا کا مزا پاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ دعاؤں کے لئے پچھلے پہر کا وقت کیسا اچھا وقت ہے۔ اور اس میں کیسی لذت حاصل ہوتی ہے۔ اگر دوسرے لوگوں کو اس لذت کا ایک ذرہ بھی کسی طرح چکھایا جا سکتا تو بھی رات کے سونے اور آرام کرنے کو اس لذت کے حاصل کرنے پر قربان کر دیتے بعض نادان رمضان کے روزوں کے متعلق کہتے ہیں کہ سحری کو اٹھنے اور دن بھر بھوکے اور پیاسے رہنے کی کیا ضروت ہے اس میں اس قدر ترمیم کر دینی چاہیئے کہ پیٹ بھر کے نہ کھایا جائے تھوڑا بہت ناشتہ کر لیا مثلاً چائے پی لی یا پھل کھا لیا اور بابی کہتے ہیں کہ دن چڑھے سے روزہ رکھنا چاہئے۔ لیکن ایسے روزہ کی مثال بعینہ یہ ہے کہ ایک شخص کا ناک کان کاٹ دیئے جائیں۔ آنکھیں نکال دی جائیں اور پھر کہا جائے کہ یہ انسان ہے۔ روزہ کی جان اور روح چونکہ سحری کا وقت اور تہجد کا پڑھنا ہے۔ اس لئے دن چڑھے کھانا کھا کر روزہ رکھنے سے ایسا ہی روزہ ہو گا۔ جو بے جان ہو گا۔ اور جس میں روح نہیں ہوگی۔ سحری کا وقت وہ وقت ہے۔ جب کہ خدا تعالی سماء الدنیا پر آجاتا ہے۔ پس اگر روزہ کی یہ روح نکال لی جائے۔ تو اس کے لاشہ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے اگر سحری کے وقت انسان نہ اٹھے اور تہجد نہ پڑھے تو بھوکا اور پیاسا رہنے سے کیا فائدہ۔ روح کے بغیر جسم ایک مردار شے ہے۔ اور مردار چیز سے سوائے بدبو اور تعفن کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بیٹا اپنے باپ کی لاش کو عزیز اپنے دوست کی لاش کو۔ روح کے جسم سے جدا ہونے پر دفن کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس لاش کا رکھنا مفید نہیں بلکہ سخت مضر ہوتا ہے۔ اسی طرح اس مردہ روزہ کا رکھنا جس میں روح نہ ہو نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہ دے گا۔ بلکہ الٹا نقصان پہنچائے گا کیونکہ رکھنے والا اس سے مدارج کی ترقی سمجھے گا حالانکہ وہ اور زیادہ گر رہا ہو گا۔ اصل روحانی ترقی اسی روزہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جس میں روح ہو۔ اور روح اسی روزہ میں ہے۔ جو اسلام نے بتایا ہے۔ جو لوگ روزہ میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں وہ تہجد کی لذت سے ناواقف ہیں۔ روزہ میں ترمیم کرنا کیانی شریعت بنا لینا بھی آسان ہے۔ لیکن نئی حقیقت پیدا کرنا مشکل ہے۔ تصویر بنالینی آسان ہے۔ لیکن تصویر میں جان نہیں ڈالی جاسکتی۔ اسی طرح روزے بنائے جا سکتے ہیں۔ اور بیسوں قسم کے بنائے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان میں وہ روح نہیں پیدا کی جاسکتی۔ جو خدا نے رکھی ہے۔ اس روح اور جان کو نہیں جانتے۔ جو خدا نے رمضان میں رکھی ہے۔ میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ اگر وہ لذت اور سرد رجو ایک دفعہ کی تہجد کی نماز میں