خطبات محمود (جلد 8) — Page 232
232 میں تبلیغ کے لئے نیا دروازہ کھلا ہے اور وہ یہ کہ اب تبلیغ جنگی طور پر کرنی پڑتی ہے جس میں ایک مبلغ کا تعلق دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک کی کامیابی دوسرے کی کامیابی کا موجب ہوتی ہے۔ جس طرح جنگ میں فوج چلتی ہے اور ہر شخص کے قدم بڑھانے سے فوج آگے بڑھتی ہے اور ایک ساتھ رتا ہے اور جس طرح فوج میں ایک دوست اگر اسکے ہاتھ آگے بڑھتی ہے اسی طرح ہمیں بھی کرنا پڑتا ہے اور جس طرح فوج میں ایک دستہ اگر آگے بڑھ سے اطاعت و اتحاد کا مادہ ۔ اتحاد کا جائے تب بھی خطرہ ہوتا ہے اگر پیچھے رہ جائے تب بھی خطرہ ہوتا ہے اسی طرح یہاں ہے اور اسی لئے سب سے ایک وقت میں برابر کام لیا جاتا ہے۔ بے شک اس طرح کی تبلیغ میں خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اس صورت میں ایک فرد کی بھی سستی سے تمام پر اثر پڑتا ہے اور تمام جماعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن اس میں فوائد بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اول تو مل کر کام کرنے امادہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہ طریق جو ایک گونج پیدا کر دیتا ہے جس سے عظیم الشان نتائج نکلتے ہیں جو لوٹ لوٹ کر کامیابی کا باعث بنتے ہیں اور ان سے تمام عالم میں ایک گونج پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر دوسرے لوگوں کو اس میدان میں ناکامی حاصل ہوئی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ ان میں یہ انتظام نہیں تھا۔ وہ کسی انتظام کے ماتحت کام نہیں کرتے تھے۔ ایک مولوی کو اگر ناکامی ہوئی تو دوسروں نے پوچھا بھی نہیں یا ایک کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اثر دوسروں پر کوئی نہیں پڑا۔ اگر وہ ہمارا طریق اختیار کرتے تو ان کو بھی کامیابی حاصل ہوتی۔ تو اس قسم کی تبلیغ میں بہت بڑے فوائد ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے بھی ہے کہ کام میں ایک سرعت پیدا ہو جاتی ہے جو دوسری صورت میں نہیں پیدا ہوتی۔ ہم میدان ارتداد میں آٹھ ماہ سے کام کر رہے ہیں مگر کام کے دن اب آتے ہیں۔ وہ لوگ لیے عرصہ کے بعد اب آکر ہماری باتوں کو سننے لگے ہیں۔ کئی ماہ کام کرنے کے بعد اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ ہماری جماعت کوئی آوارہ جماعت نہیں۔ وہاں کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مولوی لوگ بلا وجہ ہماری مخالفت کرتے ہیں یہ بھی تو مسلمان بلکہ اعلیٰ درجہ کے مسلمان ہیں۔ اور یہ بھاگنے والے نہیں بلکہ مستقل کام کرنے والے ہیں۔ پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اب زور سے کام کرنے کا وقت ہے اگر اب ہم اپنے رنگ میں اپنے کام میں ایسا زور نہ دیں کہ تمام علاقہ کو جوش میں بہالے جائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارا پہلا کام بھی تمام کا تمام ضائع ہو جائے گا۔ ہو جس طرح فوج میں جسموں کا آگے پیچھے ہونا خطرناک ہوتا ہے اسی طرح تبلیغ میں خیالات کا بھی آگے پیچھے ہونا خطرناک ہے۔ اگر خیالات میں تفرقہ پڑ جائے تو ایسی ناکامی ہوتی ہے جس کی تلافی کی کوئی صورت ہی نہیں رہتی مثلاً اگر اس وقت ہم پوری کوشش نہ کریں اور پورے زور سے کام نہ لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پہلا ہمارا تمام کام بگڑ جائے گا۔ ان لوگوں سے نہ وہ تعلقات رہیں گے نہ وہ