خطبات محمود (جلد 8) — Page 201
201- 34 وہ اسلام کا سب سے بڑا رکن نماز ہے (فرموده ۲۱ ستمبر ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ سورہ فاتحہ جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے یہ ام القران ہے یعنی قرآن کریم کی جڑ ہے۔ جس طرح شاخوں میں وہی کچھ آجاتا ہے جو جڑ میں موجود ہوتا ہے گو وہ اس میں شکلا" نہ ہو مگر بالقوة سب کچھ جڑ میں موجود ہوتا ہے جو ہوتا ہے جو شاخوں میں جاکر ظاہر ہوتا ہے۔ ا اہر ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں جو کچھ بیان ہے وہ مختصرا اس سورۃ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ شاخ میں جو پھل ہوتے ہیں وہ شکل کے لحاظ سے تو بیج میں نہیں ہوتے مگر اھل کے لحاظ سے وہ بیج میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح سورہ فاتحہ قرآن کریم کے لئے بطور جڑ کے ہے۔ یعنی جو مضامین قرآن کریم میں تفصیلاً بیان کئے گئے ہیں اور جو گلکاریاں جو پھل اور پھول اور جو سر سبزی و شادابی اس کے مطالب میں نظر آتی ہے وہ ساری کی ساری بطور پیج کے سورہ فاتحہ میں موجود ہے اگر کوئی بار یک نگاہ رکھنے والا ہو تو وہ قرآن کریم کے مطالب کو سورۂ فاتحہ سے نکال سکتا ہے۔ دنیوی چیزوں میں تو بیچ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان پر درخت کے چھوٹے یا بڑے اور سرسبز و میٹھے ہونے کا اندازہ نہیں لگا سکتے مگر قرآن کریم اس خوبی میں ممتاز ہے کہ اس کی یہ چھوٹی سی سورۃ قرآن کریم کے مطالب کو اس طرح اپنے اندر رکھتی ہے کہ اس پر غور کیا جائے تو قرآن کریم کے تمام مطالب اس سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ تو یہ قرآن مجید کو ہی خوبی حاصل ہے کہ اس کے بیج کے اندر ہی وہ حالت پائی جاتی ہے جس پر ہم قرآن کریم کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گیہوں کے بیچ پر اس کے درخت کا ہم صحیح اندازہ نہیں قائم کر سکتے۔ ایک خربوزہ کے بیج سے خربوزہ کا صحیح اندازہ نہیں معلوم ہو سکتا مگر قرآن کریم کی جڑ ایک ایسی جڑ ہے کہ جس پر ہم قرآن کریم کا صحیح صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں اور باوجود اس کے کہ سورۃ فاتحہ کے الفاظ بہت تھوڑے ہیں اور اس کی سات آیتیں جو ہیں وہ بھی اس قدر چھوٹی ہیں کہ قرآن کریم کی چھوٹی سے چھوٹی آیت بھی سورہ فاتحہ کی آیت سے لمبی