خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 124

124 کہ وہ قوم جو دین کے لئے کھڑی ہو۔ وہ اپنے اموال بھی خرچ کرے۔ چندے دینا دنیاوی کام ہے" مگر جو ہو ۔ وہ خرچ ۔ ہے بغیر اس کے اشاعت اسلام ہو نہیں سکتی اس لئے میں نے نصیحت کی تھی کہ کارکن یہاں کے بھی اور ہر کریں کو تاکہ وہ دینے نہ باہر کے بھی کوشش کریں کہ لوگوں کو جگاتے رہیں تاکہ وہ چندے دینے میں سستی نہ کریں۔ آج میں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس میں خصوصیت سے قادیان والے اور پھر باہر کے کارکن بھی مخاطب ہیں۔ میں نے بارہا بتایا ہے کہ خالی اخلاص کسی کام کا نہیں ہوتا۔ بہت لوگ اس دھوکہ میں پڑے ہوتے ہیں کہ ہمارے دل میں اخلاص اور محبت ہے یہی کافی ہے۔ وہ اسی دھوکہ میں دنیا سے گذر جاتے ہیں اور دین کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اخلاص اس وقت تک کام نہیں دے سکتا جب تک کہ جس کے متعلق ہو اس کے لئے ظاہری سامان بھی نہ کئے جائیں۔ مثلاً ماں کو بچہ سے محبت ہوتی ہے۔ مگر کیا اس محبت سے بچہ بیماری سے بچ سکتا ہے۔ نہیں جب تک دوا نہ استعمال کی جائے گی صحت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر بچے کو پھوڑا نکل آئے تو کیا ماں کی محبت سے اچھا ہو جائے گا یا ڈاکٹر کی محبت ہے۔ نہ ماں کی محبت سے اچھا ہو گا نہ ڈاکٹر کی محبت سے۔ اگر اچھا ہو گا تو اسی طرح کہ اس محبت سے مجبور ہو کر جو علاج خدا نے رکھا ہے اس کو استعمال کریں لیکن اگر علاج نہ کریں گے تو نہیں بچا سکیں گے۔ میں نے یہ واقعہ کئی دفعہ سنایا ہے کہ لاہور سے روانہ ہوا اور ایسا اتفاق ہوا کہ جس گاڑی میں بیٹھا اس میں پیر جماعت علی صاحب علی پوری بیٹھے تھے اور مجھے گاڑی پر سوار ہونے سے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ دوسرا مسافر کون ہے۔ اس میں تین بیچ تھے۔ ایک پر وہ بیٹھے تھے۔ درمیان کا خالی تھا اور تیسرے پر میں بیٹھ گیا۔ اسٹیشن پر ان کے مریدوں نے انہیں کہا کیا کھانے کے لئے کچھ لائیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے بالکل بھوک نہیں۔ امرتسر ہی جاکر کچھ کھاؤں گا۔ لیکن جب گاڑی روانہ ہوئی تو یا ہر سر نکال کر سرونٹ کے کمرہ میں جو ساتھ ہی تھا اپنے نوکر سے کہا کچھ کھانے کو ہے تو لاؤ۔ سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ اس پر مجھے تعجب آیا کہ جب ایسی سخت بھوک لگی ہوئی تھی تو مریدوں کے سامنے انکار کرنے کی کیا ضرورت تھی مگر کوئی حکمت ہوگی۔ نوکر نے کہا کھانے کو تو کچھ نہیں۔ میاں میرا تر کر کوئی چائے وغیرہ کا انتظام کروں گا۔ کہنے لگے تمہارے پاس میوہ تھا کہاں گیا۔ اس نے کہا۔ ہے۔ کہا لاؤ وہی دے دو۔ اس نے دے دیا اور لیکر اپنی جگہ پر آبیٹھے۔ اس سے پہلے وہ مجھ سے پوچھ چکے تھے کہ کہاں جاتا ہے۔ میں نے کہا بٹالہ۔ کہنے لگا خاص بٹالہ یا کسی گاؤں میں۔ میں نے کہا قادیان جاؤں گا۔ کہنے لگے کیا وہیں کے رہنے والے ہو یا باہر کے۔ میں نے کہا وہیں کا رہنے والا ہوں۔ کہنے لگے کیا مرزا صاحب سے آپ کا رشتہ ہے۔ میں نے کہاں میں