خطبات محمود (جلد 7) — Page 44
۴۴ انہوں نے بڑی فتح حاصل کی۔ اس سے کیا ہوتا ہے۔ وہ تو خود مانتے ہیں۔ کہ کعبہ پر گولے برسائے گئے۔ پس نعروں سے کیا ہوا۔ اگر کعبہ پر گولوں کا برسنا اس کی عظمت پر حرف نہیں لاتا۔ تو اگر وہ مسجد اقصیٰ کے پاس سے نعرے مارتے ہوئے گزر گئے۔ تو کیا ہو گیا۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ یہ پیج بڑھا او بڑے درخت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ اور آس پاس کے درختوں کو خشک کر رہا ہے پھر کیونکر انکار ہو سکتا ہے۔ کہ اس درخت کی خدا حفاظت کر رہا ہے۔ اگر کوئی اب بھی انکار کرے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ اس وقت میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ہر حالت میں اصلاح کریں۔ اور دشمنوں کو نسی کا موقعہ نہ دیں۔ اور مخالفین کے خاموش کرانے کے لئے صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ تم ہمارے سلسلہ کو ناپاک اور جھوٹا اور کیا کچھ نہیں کہتے۔ لیکن یہ جو کچھ بھی ہے تیس سال سے ہندوستان اور یورپ میں امریکہ میں پھیل رہا ہے۔ اور تم جو پاک لئے بیٹھے ہو۔ وہ دن بدن تنزل میں ہے۔ اور تم لوگ حضرت مرزا صاحب کی بعثت سے قبل پادریوں سے چھتے پھرتے تھے۔ اور تم میں سے لاکھوں انسان عیسائی ہو گئے تھے۔ پس تمہارا سچا اسلام تنزل پاتا رہا اور پاتا ہے۔ اور ہمارا اسلام دن بدن دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس سے کیا صاف طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو اسلام ہم پیش کرتے ہیں اس کے آگے گردنیں جھکی ہیں اور وہ اسلام جو تم پیش کرتے ہو۔ اس سے نفرت کی جاتی ہے۔ १९ و د کنده اسلام مگر میں اپنے دوستوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں تاکہ ہماری ترقی سرعت سے ہو۔ اور دشمن جو آج ہم پر ہنستا ہے۔ اس وقت ہم اس پر ہنسیں گے تو نہیں۔ البتہ ان کو معلوم کرا دیں گے کہ وہ جس پودے کو کچلنا چاہتے تھے۔ وہ بڑھ گیا اور باقی سب درخت خشک ہو گئے اور انکی سب عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ یہ بڑی بات نہیں۔ اگر تم اپنی اصلاح کر لو تو قلیل عرصہ میں تم دنیا میں پھیل جاؤ گے اور دشمن جو تم پر حملہ کرنے آتا ہے۔ اس کو اپنے بچاؤ کی فکر ہوگی۔ اور یہ مردے کی طرح ہوں گے اور انکو موقعہ نہ ہو گا کہ تم پر نہیں۔ (الفضل 1/14 اپریل ۱۹۲۱ء) ا بخاری کتاب بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 24/43