خطبات محمود (جلد 7) — Page 430
٣٣٠ 80 مہمانوں سے حسن سلوک کی نصیحت فرموده ۱۱۵ تیر ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔ چونکہ کل مجھے سر درد کا دورہ ہو گیا تھا۔ آج معلوم ہوتا ہے کہ بخار ہو گیا ہے۔ اس لئے مختصراً دوستوں کو ان باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جن کی طرف جلسہ سالانہ کے موقعہ پر توجہ دلایا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو مہمان اگلے جمعہ میں آجائیں گے۔ بلکہ ابھی سے آنے لگے ہیں قادیان کے لوگ جو مہمانوں کی خدمت کا کام کرتے ہیں ان کو بعض دفعہ اپنی طبیعت اور خواہش کے خلاف باتیں دیکھنی اور سنتی پڑتی ہیں کیونکہ جلسہ کے موقع پر جو لوگ آتے ہیں ان میں بعض کمزور طبع ہوتے ہیں اور بعض غیر احمدی ہوتے ہیں اور بعض جو شیلے لوگ ہوتے ہیں۔ پھر سفر میں صابر بھی جو شیلے ہو جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ریل کے سفر میں بعض دفعہ سمجھدار لوگ بھی سختی کر بیٹھتے ہیں۔ تو وہاں جہاں نہ چارپائی میسر ہو اور نہ کھانے کا وقت مقرر ہو اور متواتر کئی دن کا سفر ہو۔ تو کمزور طبائع یعنی وہ لوگ جو صحت کے لحاظ سے کمزور ۔ در ہوں۔ یا جن میں اخلاص کی کمی ہو۔ یا ہو۔ یا جن کو سلسلہ سے تعلق کم۔ ہو یا نہ ہو۔ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کارکنوں کو ناپسند ہوتی ہیں۔ مگر دوستوں کو نے چاہیے کہ وہ ان سخت باتوں کو خیال میں نہ لائیں اور حتی الوسع مہمان کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھو کہ زندگی ایک موقع ہے کہ جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم لوگ تاریخ کے قائل نہیں کہ بار بار اس دنیا میں آئیں گے۔ اور پھر نجات پائیں گے۔ بلکہ ہمارے لئے ایک ہی موقع ہے۔ ہیں کہ بار بار ایسا نہ ہو کہ اس کو نادانی اور بے وقوفی سے کھو دیں۔ اگر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اگلے جہاں کے لئے سامان نہ کیا تو دوسرا موقع کوئی نہیں۔ اس لئے اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اور اس کو بوجھ نہیں خیال کرنا چاہیے۔ یہ مصیبت نہیں بلکہ انعام ہے۔ لوگوں کو شکائت ہوتی ہے کہ فلاں شخص بڑا ہو گیا۔ اس کو ترقی کا موقع مل گیا اگر ہمیں موقع ملتا