خطبات محمود (جلد 7) — Page 410
76 ہندوؤں میں سچائی کا پر چار (فرموده کار نومبر ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ دنیا میں فنون دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک فن وہ ہوتے ہیں کہ جن کے سیکھنے اور استعمال کرنے کا مقصد، نتیجہ اور مدعا صرف دل کی خوشی اور تماشا ہوتا ہے۔ وہ سب کو خوبصورت نظر آتے ہیں۔ لوگ ان کو دیکھنے آتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ دیکھنے والے ان فنون کے ماہروں پر واہ واہ بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کا اثر اس محفل تک ہی ہوتا ہے۔ اور مجلس کے علاوہ بنی نوع انسان پر ان کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ ان فنون والوں کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر جب جدا ہوتے ہیں تو بھول جاتے ہیں۔ مگر ایک وہ فنون ہیں۔ جن پر لوگ تعریف نہیں کرتے۔ اور دیکھنے والے ان لوگوں کے گرد جمع نہیں ہوتے ان کو دیکھنے کے لئے لوگ خرچ کہاں کریں گے۔ اگر کہا جائے کہ کچھ دیں گے تب بھی ا جمع نہیں ہوتے۔ باوجود اس کے کہ یہ کام فی حد ذاتہ مفید ہیں۔ اور لوگوں کے لئے ان کے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ مثلاً تھیٹر ہے۔ یورپ میں اس فن نے بڑی ترقی کی ہے۔ یورپ میں اس پیشہ میں کمال رکھنے والے کو ”نواب" تک کے خطاب ملتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی تعریف یہ ہوتی ہے کہ یہ شخص بڑا نقال ہے یا بڑا ناچنے والا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہے۔ یورپ میں لوگ تمھیں تمہیں روپیہ دے کر تھیٹروں میں جاتے ہیں۔ یہاں اتنا تو نہیں۔ ہاں پانچ پانچ دس دس روپیہ تک یہاں بھی خرچ کر دیتے ہیں۔ اور تماشا دیکھتے ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس تماشا دیکھنے کا ان پر ان کے دوستوں پر ان کے محلہ والوں پر ان کے شہر والوں پر ملک والوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے۔ اور کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ لوگ تھیٹروں میں بعض اوقات ہنس بھی پڑتے ہیں اور بعض اوقات رو بھی پڑتے ہیں۔ مگر تھیٹر کا جتنا بھی اثر ہوتا ہے وہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک شخص دریا پر ایک پل بناتا ہے جس کا بننا ہزاروں لاکھوں انسانوں