خطبات محمود (جلد 7) — Page 367
69 شرعی اعمال اور قوت اخلاق (فرموده ۲۹ ستمبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ اسلام نے جو تعلیم انسانی اخلاق کے متعلق دی ہے وہ اپنی ساری تفاصیل سمیت ایسی اعلیٰ پایہ کی ہے اور اس قسم کی احتیا میں اس کے لئے ضروری نہیں کہ ہر اخلاق اور ہر درجہ کا آدمی اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اسلام مکمل اور ایسا انسان پیدا کرنا چاہتا ہے جو خدا کے منشا کو پورا کرے۔ اس لئے ضروری تھا کہ اسلام اخلاق کا اعلیٰ ترین نقشہ پیش کرتا اور وہ ایسا ہو تا کہ انسان جہاں تک ترقی کر سکتا ہے اس کے سب مدارج اس میں ہوتے ورنہ اگر یہ حالت ہوتی کہ انسان ترقی کر کے ایک ایسے مقام پر جاتا کہ آگے جانے کے لئے اس کے لئے رستہ نہ رہتا تو نئی شریعت کی ضرورت پڑ جاتی۔ پس ضروری تھا کہ قرآن کریم ہی میں ساری تعلیم آتی جس سے بڑھ کر انسان ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لئے ہر انسان سے یہ امید رکھنا کہ وہ اعلیٰ اور باریک مسائل کو برتے گا۔ یہ ایک ایسی امید ہے کہ جس کا پورا ہونا نا ممکن ہے۔ کیونکہ کامل انسان چند ہی ہوتے ہیں ہر ایک انسان ترقی کرکے بی۔ اے اور ایم۔ اے ہو سکتا ہے مگر ہر ایک انسان بی۔ اے اور ایم۔ اے ہوتا نہیں۔ ہر ایک انسان عالم دین بن سکتا ہے۔ مگر ہر ایک عالم دین بنتا نہیں۔ ہر ایک انسان تاجر بن سکتا ہے۔ مگر بنتا نہیں۔ ہر ایک انسان اگر کوشش کرے تو اعلیٰ درجہ کا زمیندار بن سکتا ہے مگر بنتا نہیں۔ ہے اسی طرح اعلیٰ اخلاق ہر ایک شخص حاصل کر سکتا ہے۔ مگر کرتا نہیں کچھ لوگ اخلاق میں بہت اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی ادنیٰ درجہ کے ہوتے ہیں نہ اچھے اخلاق کی حد ہے نہ برے جھے بات کی ادنی درجہ کے ہوتے ہیں نہ اچھے اخلاق کی اخلاق کی حد ہے کئی لوگ اچھے اخلاق والے ہوتے ہیں۔ مگر ان میں ہزاروں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر کام میں ایک اوسط ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص میں اس اوسط تک بھی اخلاق نہ ہوں تو وہ صاحب اخلاق نہیں کہلا سکتا۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ہر انسان سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ کمال ہی کو پہنچ جائے گا۔ مدرسہ میں