خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 358

۳۵۸ وہ ہو جاتے ہیں۔ یہ پک نہ مثلاً پھلوں کے متعلق دیکھتا ہے کہ وہ سبز ہیں۔ اور ابھی پکے نہیں اور پھر رنگت میں ایک خاص تغیر آتا ہے۔ وہ زردی مائل : ہیں۔ یہ تغییر بتاتا ہے کہ پھل پک گیا۔ گیا۔ اگر آنکھ نہ ہوتی تو یہ نہ معلوم کر سکتا۔ اور رنگوں سے جو کام چلتے ہیں وہ بھی بند ہو جاتے علاوہ ازیں وہ عزیزوں رشتہ داروں کو دیکھتا ہے اور ان سے جو مسرت حاصل کرتا ہے۔ وہ بھی نہ کر سکتا۔ چاند ستاروں کو دیکھتا ہے۔ نگاہ بتاتی ہے کہ فلاں ستارہ کہاں ہے اور فلاں ستارہ کہاں۔ اور اس سے وہ اپنے سفر میں کام لیتا ہے۔ لیکن نگاہ نہ ہو تو بھٹکتا پھرتا۔ پھر ستاروں کو ہی دیکھ کر جو جنتریاں بنتی اور کاروبار میں آسانی بہم پہنچاتی ہیں وہ بھی نہ ہوتیں۔ پھر زبان چکھنے کے لئے ہے وہ نہ ہوتی تو میٹھے اور پھینکے۔ کڑوے اور کھٹے کا فرق نہ ہوتا۔ اور ناک سے خوشبو اور بدیو معلوم کرتا ہے۔ تمام خوشبو دار چیزیں مفید ہوتی ہیں اور بدبودار مضر اس لئے ناک کے ذریعہ نقصان رساں چیزوں سے بچتا اور مفید سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ پھر جسم میں سردی گرمی کا احساس رکھا گیا ہے اگر یہ احساس نہ ہوتا تو برف میں بیٹھا رہتا اور اسے احساس نہ ہوتا۔ نمونیہ ہو کر ہلاک ہو جاتا۔ یا گرمی میں پینہ نکلتا ہے۔ اس کے لئے پنکھا جھلتا ہے اگر گرمی کا احساس نہ ہوتا تو گرمی میں کام کرتا۔ اور پسینہ نکل نکل کر اس کا خون اس قدر کم ہو جاتا کہ وہ ہلاک ہو جاتا۔ پھر نزم اور سخت کا احساس بھی انسان کے لئے مفید ہے۔ اگر سخت چیز کو محسوس نہ کر سکتا تو زخمی ہو جاتا اور اس کو پتہ بھی نہ لگتا۔ اس موقع پر بارش برسنے پر سمٹ کر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا تاکہ جو لوگ صحن میں ہیں وہ بھی اندر آسکیں) غرض جس طرح سننے ، دیکھنے ، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی قوت ہے اسی طرح ایک قوت انسان میں ایسی بھی ہے جو بتاتی ہے کہ فلاں کام کے لئے کتنی قوت کی ضرورت ہے۔ پہلے یہ قوت معلوم نہ تھی۔ مگر اب نئے ذرائع اور آلات سے معلوم ہوتی ہے۔ پہلے لوگ پانچ حواس قرار دیتے تھے اب معلوم ہوا کہ نو حواس ہیں۔ ان میں سے ایک حس یہ ہے جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ وہ بتاتی ہے کہ فلاں کام کے لئے کتنی قوت کی ضرورت ہے۔ اس طاقت کے رکھنے میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر بڑا احسان فرمایا کیونکہ اس سے انسان اپنی طاقتوں کو تباہ کرنے سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کو معلوم کو باہ سے جاتا ہو جاتا ہے کہ کہاں مجھ کو کتنی طاقت لگانی چاہئیے۔ اور کہاں کتنی اس طرح اس کی زائد طاقت ضائع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک قلم انسان اٹھانا چاہتا ہے وہ قوت اس کو بتا دیتی ہے کہ اس کے لئے کتنی ہے کہ کہاں مجھ کو کتنی طاقت کی ضرورت ہے اگر یہ نہ ہوتی تو انسان پیسہ کے اٹھانے کے لئے بھی اتنی ہی طاقت لگاتا جتنی ہے یہ من بھر بوجھ کے اٹھانے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ اور اس طرح اب جو انسان ساٹھ ستر سال زندہ رہتا ہے اس کی بجائے پندرہ میں سال میں مر جاتا۔