خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 333

رس 61 مومن اور کافر میں فرق (فرموده ۲۸ جولائی ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ اور او من كان ميتا " فاحيينه وجعلنا له نورا "۔ يمشي به في الناس كمن مثله في الظلمت ليس بخارج منها كذالك زين للكفرين ما كانوا يعملون (الانعام (۱۲۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ دنیا میں ہر چیز اپنے ساتھ کچھ علامتیں رکھتی ہے۔ اور اگر وہ علامتیں نہ ہوں۔ تو تمام کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے۔ مثلاً موٹی علامت یہ ہے کہ خدا تعالی نے شکلوں میں اختلاف رکھا ہے۔ اگر سب انسانوں کی ایک سی شکل ہوتی۔ تو کس طرح بچے پہچانتے کہ ان کی مائیں کونسی ہیں۔ اور مائیں کس طرح اپنے بچوں کو پہچانتیں۔ خاوند اپنی بیوی کو نہ پہچان سکتا۔ اور بیوی اپنے خاوند کو نہ پہچان سکتی۔ اس طرح تمام دنیا کے کاروبار میں گڑ بڑ پڑ جاتی۔ چونکہ ہر بچہ کی شکل ایک سی ہوتی۔ اس لئے جب بچہ ماں سے جدا ہو جاتا تو پھر کوئی پتہ نہ لگتا کہ کدھر گیا ہے۔ اور جب بچہ جدا ہو جاتا تو اسے کوئی پتہ نہ لگتا کہ کون اس کی ماں ہے۔ اسی طرح جب عورتوں کی شکل ایک سی ہوتی تو بچہ کو کیونکر پتہ لگتا کہ فلاں میری ماں اور ماں کو کیونکر پتہ لگتا کہ فلاں میرا بچہ ہے۔ اس طرح جب مردوں کی شکل ایک سی ہوتی اور جب عورتوں کی ایک سی تو مرد کس طرح پہچانتے کہ یہ ان کی بیویاں ہیں۔ اور بیویاں کس طرح پہچانتیں کہ یہ ان کے خاوند ہیں۔ اس طرح یہ کسی طرح معلوم ہو سکتا۔ کہ فلاں میرا بھائی ہے اور فلاں دشمن۔ ایک نے کسی کو مارا جب تک مارتا رہا اس وقت تک تو معلوم ہوا کہ یہ دشمن ہے۔ لیکن وہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا پھر پتہ نہ رہتا کہ کون تھا۔ لیکن شکلوں کا مختلف ہونا ایسی علامت ہے کہ اس سے انسان پہچان سکتا ہے کہ یہ دشمن ہے اور یہ دوست پھر شکلوں کے علاوہ رنگوں کا فرق خدا نے رکھا ہے۔ رنگ بھی شناخت میں مددگار ہوتے ہیں۔ لوگ تو کالے گورے زرد سرغ وغیرہ انسانوں کے رنگوں کے نام رکھتے ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے۔ تو ہر آدمی کا رنگ دو ادو سرے سے جدا جدا ہوتا ہے۔ نہ سارے کالے کالے ایک سے کالے ہوتے ۔ ہوتے ہیں اور نہ سارے