خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 289

۳۸۹ رسول کریم سے پوچھتا ہے یعنی جب انسان کے دل میں خدا کے پانے کی خواہش ہوتی اور وہ پوچھ بھی لیتا ہے کہ کیا وہ مل سکتا ہے۔ تو وہ بے اختیار کرتا ہے۔ خدایا میں تیرا قرب چاہتا ہوں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں۔ پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ادھر آجاؤ۔ اس کے متعلق فرمایا میں پکارنے والوں کی آواز کا جواب دیتا ہے۔ یہ دوسرا قرب ہوا۔ پہلا تو یہ تھا کہ انسان اس کی تلاش میں جا رہا تھا۔ دوسرا یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اے ڈھونڈنے والے ادھر آؤ میں یہاں ہوں۔ پھر کیا ہوتا ہے۔ فرمایا اس پر نہ ٹھر جاؤ بلکہ فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم پرشدون جیسا کہ پیچدار راستوں میں قاعدہ ہوتا ہے۔ کہ تم جس کو تلاش کرتے ہو۔ اور وہ تمہاری آواز سن لیتا ہے۔ تو وہ تمہیں بتاتا ہے۔ اس راستہ سے آنا اس طرف کو آنا فلاں درخت کے نیچے سے آنا۔ اسی طرح اللہ تعالٰی بھی اپنے ملنے کی ترکیبیں بتلاتا ہے۔ جن پر چل کر انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نیک اعمال کے رستے بتاتا ہے۔ نیک سلوک کے مواقع بہم پہنچاتا ہے کوئی فقیر اس کے پاس بھیج دیتا ہے کہ اس سے نیک سلوک کرے اور ثواب حاصل کرے۔ تبلیغ کا کوئی موقع بہم پہنچا دیتا ہے۔ اس کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ الہام ہی خدا کی طرف سے ہو۔ بلکہ نیکی کرنے کے مواقع انسان کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اس وقت انسان کو چاہئیے کہ ان تحریکات کو قبول کرے۔ خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔ پھر فرمایا وليؤمنوا بی مجھ پر توکل اور بھروسہ بھی رکھیں اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مجھ تک پہنچ جائیں گے۔ اس طرح رویت کا مقام حاصل ہو گا یا وصال کا مقام مل جائے گا۔ پہلی حالت تو سماعی تھی۔ سنا تھا کہ خدا مل سکتا ہے۔ دوسری یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہاں میں قریب ہوں۔ تیسرا یہ کہ خدا تعالیٰ اپنے قرب پانے کے رستے کھولتا ہے۔ نئے نئے مواقع پیدا کرتا ہے اگر انسان ان کو استعمال کرے اور خدا پر توکل رکھے تو ایک دن خدا تعالی تک پہنچ جاتا ہے سو اس آیت میں قرب الہی کے یہ تین مدارج بتائے گئے ہیں۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو خدا کے فضل سے پہلا موقع تو مل گیا کہ اول ہم خدا کی تلاش میں ہیں دوسرے ہم نے مولویوں سے نہیں پوچھا۔ بلکہ ایک نبی سے پوچھا ہے۔ تیسرے سوال بھی خدا تعالی ہی کے متعلق کیا ہے کہ ہمیں خدا کے قرب کی راہ بتائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس رمضان میں موقع بھی دعاؤں کا خوب مل گیا۔ اور قریباً ہر ایک شخص نے یہی دعا کی ہوگی کہ خدایا میں تیرا قرب چاہتا ہوں۔ اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے نیکی اور ثواب حاصل کرنے کے لئے جو مواقع نکالے جائیں گے ان پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان سے ہمیں قرب الہی حاصل ہوگا۔