خطبات محمود (جلد 7) — Page 225
۳۲۵ ہوں۔ تو وہ ایک کے گم ہونے کی صورت میں گیارہ پر صبر نہیں کر سکتی۔ پھر ہمیں کیسے صبر آسکتا ہے۔ کہ لاکھ کی آبادی میں سے ہزاروں ہزار باہر ہوں۔ یہ مت دیکھو کہ ہم اتنے ہو گئے بلکہ یہ دیکھو کہ ہم میں ملنے سے کتنے باہر ہیں۔ اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ وقت کم ہے۔ اس طرف توجہ کرو۔ قدم ست مت اٹھاؤ۔ تمہاری نگاہ وہاں نہیں پڑتی جہاں میں دیکھ رہا ہوں۔ تم ان باتوں کو کل دیکھو گے۔ جن کو میں آج دیکھ رہا ہوں۔ تم میں سے ہر ایک سمجھے۔ کہ اس وقت دنیا میں خدا کا مظہر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مسیح موعود آچکا ہے۔ جو آدم ثانی بھی ہے۔ میرا فرض ہے کہ ہدایت جاری کروں۔ وقت گزر رہا ہے۔ جو محسوس نہیں ہوتا۔ اس لئے وقت کی قدر کرو اور سستی کو چھوڑ رو اس کے بعد میں احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ کل مغرب کے بعد یہاں اور بیرو نجات کے جو احباب آئے ہوئے ہیں جمع ہو جائیں اس وقت بھی کچھ نصائح کی ہیں اس وقت بھی نصائح اور مواعظ بیان کروں گا۔ کیونکہ ہمارا یہاں آنا اس سے مجھ کو بھی اور آنے والوں کو بھی فائدہ ہو جائے۔ اور وہ غرض پوری ہو جائے جس کے لئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔ ا حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء شاه قطب الدین سیر العارفين متر ص ۱۰۰ بخاری کتاب المغازي غزوة ذات الرفاع الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۲۲ء)