خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 204

۲۰۴ اسی قدر بات توجہ طلب ہے کہ جو لوگ مسجد میں نہ آسکیں وہ جگہ بتائیں جہاں وہ جمع ہو سکیں۔ ان کو وہاں آنا ہو گا۔ اور اس کے متعلق ہم تحقیقات کیا کریں گے کہ کوئی غافل تو نہیں ہو گیا۔ اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں۔ میں نے احباب کو جلسہ پر بھی توجہ دلائی تھی اور اب بھی توجہ دلاتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ مؤلفۃ القلوب کا زمانہ گزر گیا۔ اب کب تک یہ بات جاری رہے گی کہ کسی کو تنبیہہ اس کے ابتلاء کے خوف سے نہ کی جائے۔ اگر اب یہ ڈھیل جاری رہی تو اس کے باعث تمام جماعت کے اخلاق بگڑ جائیں گے۔ کل ہی دو واقعات ہوئے ہیں۔ جو جماعت پر بڑے بد نما دھبے کا رنگ رکھتے ہیں۔ ابھی جلسہ پر ایک واقعہ ہو چکا ہے۔ جو جماعت پر دھبہ ہے۔ جماعت کے آپس کے قیام کے لئے محبت اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انسان کے معنی فرمایا کرتے تھے۔ جس میں دو محبتیں ہوں۔ خدا کی محبت بھی اور خدا کی مخلوق کی محبت بھی۔ کیونکہ عربی زبان الهامی زبان ہے۔ جو کہے کہ وہ خدا سے محبت کر سکتا ہے۔ بغیر انسان سے محبت کے وہ جھوٹا ہے۔ جو شخص بداخلاقی سے پیش آتا ہے گالیاں دیتا ہے۔ اتمام لگاتا ہے یا لوگوں کو کسی اشارے یا کنائے سے دکھ دیتا ہے وہ خدا کو خوش نہیں کر سکتا۔ خدا کو خوش کرنے کا پہلا قدم بندوں کو آرام دینا اور ان کو دکھ نہ دینا ہے بعض کہتے ہیں کہ ان کو ولایت مل جائے۔ مگر اس کی پروا نہیں کہ بندوں کا مال کھالیں ان کو ماریں یا تکلیف دیں کسی سے ہمدردی نہ کریں ان کی خواہش پوری ہو۔ ایسے لوگ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالی نے دو مطالبے رکھے ہیں کہ جو شخص خدا کو پانا چاہتا ہے اور اس سے تعلق مضبوط کرنا چاہتا ہے وہ پہلے مخلوق سے ہمدردی کرے۔ اور اس کو تکلیف نہ پہنچائے۔ پھر خدا تعالی کے حقوق کی حفاظت کرے۔ خدا سے تعلق پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اس کی مخلوق سے حسن سلوک نہ کیا جائے۔ جو شخص بد اخلاق ہے۔ وہ خدا کو خوش نہیں کر سکتا۔ بد اخلاقی کو دور کرنے کا طریق یہ ہے کہ جو لوگ بد اخلاقی کریں ان کے اس فعل کو محسوس کیا جائے اور نفرت کا اظہار ہو۔ بعض لوگ خدا کے خوف سے بدی نہیں چھوڑ سکتے۔ مگر بندوں کے خوف سے چھوڑ دیتے ہیں ان کو خیال ہوتا ہے کہ اگر ہم نے یہ بدی جاری رکھی تو لوگ ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اس لئے وہ لوگوں محبت و پیار اور حسن سلوک سے کام لیتے ہیں پس بدی اور بد اخلاقی چھوڑنے کا ایک طریق یہ ہے کہ ایسے شخص کے فعل سے نفرت کریں۔ انجیل کا حکم ہے کہ دشمن سے پیار کر۔ مگر اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بدی کو روکو۔ ایذا کو روکو۔ بد اخلاقی اور بدگوئی کو ناپسند کرو۔ کوئی گالی دے تو اس کو سے پکڑو۔ اگر یہ نہیں ہو گا تو بدی پھیل جائے گی۔ کل میں مضمون لکھ رہا تھا اور میری باری درمیانے گھر میں تھی۔ اس گھر کا ایک دروازہ بازار