خطبات محمود (جلد 7) — Page 190
۱۹۰ چہ جائیکہ کسی اور انسان کے فعل کو اعجاز کہا جائے۔ اعجاز تو وہ فعل ہے۔ جو حضرت موسیٰ، حضرت عیسی، حضرت مرزا صاحب اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالی نے کرایا۔ اب بتاؤ اگر حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت رسول کریم اور حضرت مرزا صاحب اکٹھے ہو جاتے۔ تو کیا یہ کام نہ کر سکتے اس کو اعجاز کہنے کے تو یہ معنی ہوئے کہ گویا خدا خود اتر آیا اور اس نے یہ کام کئے۔ یہ بہت بے ہودہ اور لغو حرکت ہے شریعت کے الفاظ کا ادب نہایت ضروری ہے۔ جو الفاظ شریعت میں داخل ہیں۔ یا مسلمانوں کے استعمال سے شریعت میں داخل ہو گئے ہیں۔ جیسے اعجاز کا لفظ ہے۔ ان کی توقیر اور ادب کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ یہی اعجاز کا لفظ ہے۔ جس سے ہم انبیاء کرام کی توقیر بچوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ لیکن جب وہ پریس کے متعلق بھی اعجاز کا لفظ استعمال ہوتا دیکھیں گے تو وہ رسولوں کے معجزہ کے متعلق یہی سمجھیں گے کہ وہ پریس بنایا کرتے ہونگے یا کتابت کرتے ہوں گے۔ مومن کے لئے ہر بات میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ تم لوگ ان باتوں کے متعلق خاص احتیاط کرو اور ان لوگوں میں سے نہ بنو۔ جنہوں نے شریعت کے قابل ادب الفاظ کی بے ادبی کر کے تباہی و بربادی حاصل کی ہے۔ لفظ " آیت» «معجزه» «کرامت» «نبی» «رسول" اور اسی طرح کے اور الفاظ تمہارے نزدیک بڑے معزز اور مکرم ہوں۔ تمہارے نزدیک "حضرت" "شہید" یا اور ایسے ہی الفاظ روحانیت اور بزرگی پر دلالت کرنے والے ہوں۔ تاکہ تمہارے بچوں میں بھی ان کا ادب اور احترام پایا جائے جن کے لئے یہ الفاظ مقرر ہیں۔ ان الفاظ کی کبھی بے حرمتی اور بے ادبی نہ کرو۔ کبھی برے معنوں میں استعمال نہ کرو۔ کبھی بطور نہیں اور تمسخر میں بھی منہ سے نہ نکالو۔ اس طرح اول ان الفاظ کا ادب اٹھ جائے گا اور پھر ان لوگوں کا ادب اٹھ جائے گا جن کے متعلق یہ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ جو بچہ اپنے بھائی یا باپ کو دیکھے گا کہ حضرت کا لفظ وہ شریر کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ تو جب کسی بزرگ کے پاس جا کر دیکھے گا کہ اسے کوئی "حضرت" کہتا ہے۔ تو یہی سمجھے گا کہ شریر ہے۔ میں نے یہ عام طور پر بات اس لئے کمی ہے۔ کہ عام طور پر لوگ ہنسی اور تمسخر میں ایسے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اور بعض تو یہاں تک کرتے ہیں کہ آیت اور حدیث بطور تمسخر پڑھ دیتے ہیں۔ چونکہ ایسی باتوں کے نتائج سخت خطرناک ہوتے۔ ہوتے ہیں۔ اس لئے تمہیں ان سے بچنا چاہئیے۔ دوسری نصیحت یہ ہے کہ جو احباب جائیں گے۔ ان کو میں نصیحت کرتا ہوں۔ کہ چونکہ سفر میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ وہ واپسی کے وقت جہاں اپنے لئے اپنے گھر والوں کے لئے دعائیں کریں۔ وہاں خدا کے جلال کے ظاہر ہونے اور کفر کے مٹنے کے لئے دعا کریں۔ ا البقرة : ۰۵ الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۹۳ء) اب بخاری کتاب بدء الخلق باب يعكفون على اصنام ۔۔ ترمذی ابواب المناقب باب مغائب ابي بكر