خطبات محمود (جلد 7) — Page 132
۱۳۲ سمجھنے لگ گئے۔ ان حالات کے پیدا ہونے کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ انجمن اور نظارت کے ماتحت جتنے کام کرنے والے ہیں۔ انہیں آئندہ ملازم نہ کیا جائے۔ بلکہ کارکن کہا جائے۔ کارکن" کے لفظ میں تنخواہ کا خیال ہی نہیں آتا۔ اور ہمارے ہاں بہت سے کام ایسے ہیں جو بغیر تنخواہ کے کرائے جاتے ہیں۔ اور اگر کچھ دیا بھی جاتا ہے۔ تو وہ بدلہ کے طور پر نہیں ہوتا۔ بلکہ محض گزارہ کے طور پر ہوتا ہے۔ ورنہ اگر نوکری کا معاملہ ہو تو پھر مانا پڑے گا۔ کہ انہیں بہت کم تنخواہ ملتی ہے اور زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرنے کا انہیں حق ہے۔ لیکن اگر نوکر کا لفظ ہی نہ رہے۔ تو ملازمت کے حقوق کا سوال ہی نہیں اٹھے گا۔ کیونکہ یہ خدا کا کام ہے۔ اور اس کے کرنے پر جس کو جو کچھ بھی ملتا ہے۔ اس کا نام تنخواہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ انعام ہے۔ اور بہت بڑا انعام ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے بدلا تو پہلے ہی دیا ہوا ہے جو کچھ دیتا ہے وہ زائد انعام کے طور پر دیتا ہے۔ اس طرح بالکل نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔ ایک صورت میں تو یہ نقشہ ہوتا ہے کہ تنخواہیں کم ہیں اور کام زیادہ۔ مگر دوسری صورت حکم دیا میں تنخواہ کا سوال ہی نہیں رہتا۔ جو کچھ کا و کچھ کوئی کرتا ہے خدا کے لئے کرتا ہے۔ اس لئے میں نے ہے کہ آئندہ کے لئے ملازم کا لفظ ہی اڑا دیا جائے اور کام کرنے والوں کو کارکن کہا جائے۔ لیکن میرے پاس ایک شکایت پہنچی ہے۔ اور جائز شکایت ہے۔ کہ جو لوگ ریزرو (Reserve) ہیں۔ اور یہاں رہتے ہیں۔ ان کو ایک اعلان میں غیر کارکن کہا گیا ہے۔ اس طرح وہ غرض پھر فوت ہو جائے گی۔ جس کے لئے میں نے کارکن کا لفظ تجویز کیا ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگوں کو غیر کارکن کہا جائے گا۔ تو وہ اپنے آپ کو بے کار سمجھ لیں گے۔ اور کام کرنے کے ناقابل ہو جائیں گے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ بعض ایسے نام ہوتے ہیں۔ جن کا الٹ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً مجاہد کا لفظ ہے۔ مجاہد عربی میں اس کو کہتے ہیں جو دین کی خدمت میں اپنی جان تک لگا دے۔ مگر دوسروں کو غیر مجاہد نہیں کہا جا سکتا۔ ایک شخص جو دینی جنگ پر گیا ہے۔ مجاہد ہے۔ لیکن ایک کمزور جو جنگ پر نہیں جا سکا۔ غیر مجاہد نہیں ہو گا۔ اور یہ لفظ اس کے متعلق استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس سے اس کے ایمان پر اثر پڑتا ہے۔ پس جس طرح مجاہد کے لفظ کا الٹ غیر مجاہد ان لوگوں کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جو جہاد میں شامل نہ ہوں۔ اسی طرح کارکن کے لفظ کا الٹ غیر کار کن نہیں استعمال ہو سکتا۔ کارکن سے مراد صرف یہی ہے کہ وہ لوگ جو کام پر لگے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو منتظر ہیں کہ انہیں کام پر لگایا جائے۔ مگر ابھی لگائے نہیں گئے۔ غیر کارکن کا لفظ سستی اور غفلت پر دلالت کرتا ہے۔ اور اس کے استعمال کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ اس لئے یہ استعمال نہیں ہونا چاہئیے۔ کارکن اصطلاح ہے۔ جو کام پر لگے م پر۔