خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 96

१५ ضروری نہیں ہوتے بلکہ اطمینان قلب اور دلی تسلی کے لیے جہانتک ہو سکے۔ اتنے دلائل معلوم کرنا نہایت ضروری ہیں ۔ دلائل دو قسم کے ہیں۔ ایک تو مشاہدہ کے ہوتے ہیں ۔ اور دوسرے عقلی یا نقلی مثلاً ایک شخص کو خدا کا اتنا قرب حاصل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے جلال کے ساتھ اس پر جلوہ فرما کر اپنی وحی و کلام سے مشرف فرماتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا تعالیٰ کا وجود مشاہدہ کے رنگ میں آجاتا ہے لیکن جن کو مشاہدہ کا مقام میسر نہ ہو ان کو دلائل عقلی و نقلی جس قدر ہو سکیں معلوم ہونے چاہتیں۔ ہماری جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ اسلام کے متعلق جس قدر ضروری مسائل ہیں اور چین پر اس کی بنیاد ہے ۔ انکو معلوم کریں۔ نیز وہ مسائل جن کا تعلق سلسلہ سے ہے یعنی وفات مسیح ۔ صداقت مسیح موعود ہے ختم نبوت ہے بعثت انبیاء وغیرہ ان سب کے دلائل ہر ایک احمدی کو ایک حد تک آنے چاہتیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالے نبی کریم کو فرماتا ہے۔ قُلْ هَذه سبيلي ادعوا إلى الله على بصيرة انا ومن اتبعنی کہدے کہ یہ میری راہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور میرے متبع علی وجہ البصیرہ اس پر قائم ہیں۔ اس آیت میں صاف طور پر مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ جو بصیرت کے ساتھ اسلام پر قائم ہوں، یعنی وہ دلائل جن سے بصیرت حاصل ہوتی ہے ۔ خواہ عقلی ہوں خواہ مشاہدہ کے طور پر ہر حال انھیں معلوم ہونے چاہتیں۔ کیونکہ قرآن شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین انھیں کو قرار دیتا ہے۔ جن کو بصیرت حاصل ہو جس کے دوسرے رنگ میں یہ معنے ہوتے کہ جس کو بصیرت حاصل نہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ بصیرت کے لیے ضروری نہیں کہ تمام تفصیلات بھی معلوم ہوں، بلکہ بصیرت اس کو کہتے ہیں کہ ایک حد تک علم ہو۔ اگر پورے طور پر علم ہو تو وہ تو بہت ہی اچھی چیز ہے۔ ورنہ اتنا معلوم ہونا ضروری ہے کہ احدیت سچی ہے تو اس کے موٹے موٹے دلائل کیا ہیں۔ اور جن مسائل کا اس سے تعلق ہے۔ ان کی سچائی کے کیا دلائل ہیں ۔ اگر بصیرت حاصل ہو جائے۔ تو ایمان کی لذت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو ت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو جھٹ پٹ ذرا جو بھی بدظنی پر ٹھوکر کھا لیتے ہیں۔ ہلاکت سے بچ جائیں ۔ عالم وہی نہیں ہوتا جس کو سارے علوم معلوم ہوتی بلکہ عالم وہ ہوتا ہے جس کو علوم کسی حد تک معلوم ہوں ۔ میں نے وہ مسائل بتا دیتے ہیں کہ جن کے دلائل کا معلوم ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص ان کے دلائل نہیں جانتا۔ تو اس کی حالت خطرہ سے خالی