خطبات محمود (جلد 6) — Page 93
۹۳ سے جا کر دریافت کرو۔ اور اگر پنڈتوں سے دریافت کیا جائے۔ تو ان میں سے بھی بہت سے ایسے نکلیں گئے کہ جو کہیں گے بھی تو یہی کہ ہمارا مذہب قدیمی اور ، قدیمی اور پرانا مذہب ہے ۔ اس لیے سچا ہے۔ تو وہ ایسے ۔ سنیچا دلائل دیں گے جو در حقیقت دلائل نہیں ہونگے بلکہ دلائل نما دعاوی ہونگے ۔ یہی حال دیگر مذاہب کا ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک پادری سے ملاقات کا اتفاق ہوا وہ ۳۵ سال سے عیسائیت کی تبلیغ کر رہا تھا اور بہت سے لوگ اس کے ذریعہ عیسائی ہو چکے تھے وہ ایک جگہ اشتہار تقسیم کر رہا تھائے میں نے ایک دوست کو اس کے پاس بھیجا کہ اس سے دریافت کرو کہ وہ کسی وقت ملاقات کر سکتا ہے اس پر اس نے اپنے مکان کا پتہ دیا اور وقت بھی مقرر کر دیا۔ مقررہ وقت پر میں اس کے پاس گیا اور تثلیث پر گفتگو شروع ہوئی ۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ آپ لوگ جس تثلیث کے قائل ہیں۔ اس کے متعلق مجھے یہ بتلا یتے کہ کس رنگ میں قائل ہیں۔ آیا خدا کے تین صفات ہیں ۔ یا تین حیثیتیں ہیں ۔ یا تین الگ الگ وجود ہیں۔ اس نے کہا۔ کہ جو لوگ خدا کی تین صفات یا تین حیثیتوں کے قاتل ہیں۔ وہ در حقیقت مذہب کے قائل نہیں ۔ بلکہ مذہب کو بگاڑتے ہیں ۔ مذہبی گروہ تین وجودوں کا قائل ہے ۔ میں نے کہا جب تین وجود ہیں تو وہ تینوں مکمل ہیں یا تینوں مل کر ایک وجود ہوتے ہیں۔ اس نے جواب دیا، نہیں تینوں مکمل ہیں۔ میں نے پوچھا کہ جب وہ تینوں مکمل ہیں تو کیا تینوں ملکر کام کرتے ہیں ۔ یا الگ الگ ، اگر ایک کام کرتا ہے تو باقی دو بیکار بیٹھے رہتے ہیں۔ اس نے کہا اب خدا نے اپنے بیٹے کے سپرو اس کا خانہ کو کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر باپ نے بیٹے کے سپرد کر دیا ہے تو گویا اب وہ خود بیکار ہو گیا ہے اس پر اس نے کہا نہیں تینوں مل کر کام کرتے ہیں اور تینوں مکمل بھی ہیں اس کی میز پر ایک قلم پڑا تھا۔ میں نے اُسے اُٹھا یا اور پوچھا کہ اگر من شخص مل کر اس قلم کو اُٹھائیں تو آپ انھیں کیا کہیں گے۔ اس نے کہا کہ میں انھیں بیوقوف کہونگا۔ میں نے کہا اچھا جب تینوں خدا مکمل ہیں اور تینوں میں سے ہر ایک اس دنیا کے نظام کو قائم رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تو کیا وجہ کہ تینوں ملکہ اس کام کو کر رہے ہیں ۔ جیسے اکیلا اکیلا کرسکتا ہے ۔ اس سے تو ماننا پڑیگا کہ تینوں غفو کام کرتے ہیں اور اگر ان میں سے ایک کرتا ہے تو پھر دو کو بیکار اور بے سود مانا پڑیگا ۔ اس نے آخر میں کہا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ تثلیث کا مسئلہ الیسا مسئلہ ہے کہ جب تک انجیل پر ایمان نہ ہو سمجھ میں نہیں آسکتا۔ میں نے کہا کہ انجیل کا ماننا تو اس پر موقوف ہے کہ انجیل کا مسئلہ