خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 91

اس کا فضل ہے مگر اس فضل کا مستحقی انسان استقامت سے ہی بن سکتا ہے۔ غرض ہر فعل ۔ اور ہر کام میں استقامت کی بہت ہی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں استقامت دکھائے گا۔ تو خدا تعالے سے انعامات غیر محدود حاصل کریگا ۔ اور رسول کریم نے بھی اس کے متعلق سخت تاکید کی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں اس کی کمی ہے۔ حالانکہ استقامت بہت بڑی چیز ہے۔ اس کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا میں نے کئی کام بعض ایسے لوگوں کے سپر د کتے جنہوں نے اس کے لیے نام لکھوا دیتے اور بڑے جوش سے اُٹھے تھے مگر پھر خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت صاحب کی کتابوں کا انڈکس بنانے کے لیے جب اعلان کیا گیا تو کئی لوگوں نے نام لکھوائے ۔ اور ابتداء میں بڑا جوش رہا کئی لوگ مجھے روزانہ پوچھا کرتے تھے کہ کس طرح تیار کریں لیکن نہیں معلوم اب وہ کیا کر رہے ہیں۔ تین مہینہ کی مدت مقر کی گئی تھی۔ مگر مگراب اب چھ مہینے اس کے بعد بھی گزر گئے ہیں ۔ چھوٹے ہوتے ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ ایک دیو تھا جو چھ مہینہ سوتا تھا اور چھ مہینہ جاگتا تھا ، لیکن ہماری جماعت کے بعض لوگ سال میں صرف تین دین جلسہ میں جاگتے ہیں اور جلسہ ختم ہونے کے معا بعد سو جاتے ہیں۔ جلسہ میں تقریریں سن کر خوش ہو جانا۔ یا اس وقت جوش دکھا دینا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ تقریروں میں جو کچھ بتایا جاتا ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ تقریریں تو آپ لوگوں کو کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ سو کام کرو اور استقامت سے کروں میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تمام کاموں میں استقامت و استقلال اختیار کرو کسی کام کے لیے چند روزہ جوش سے وہ کام نہیں ہو جاتا ۔ بلکہ اس کے انجام پذیر ہونے کے لیے مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور آپ لوگوں کو بھی کام کرنے کی توفیق دے اور استقامت عطا فرمائے آمین الفضل الاستمبر شاملة )