خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 89

۸۹ اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتاتا ہوں کہ آپ نے استقامت کی نسبت کسی قدر زور دیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے ۔ وعان احب الدين اليه ما داوم عليه صاحبه که انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند اور پیارا تھا جس پر مداومت اختیار کی جاتی ہے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک عورت آئی اور اپنی عبادت گزاریوں کا ذکر کرنے لگی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ تو آپ نے پوچھا کیا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ عورت عبادت گزار ہے بہت عبادت کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا خدا کو تو و عمل پسند ہے جس پر مداومت اختیار کی جاتے اسی طرح عبد اللہ ابن عمرو ابن العاص کی روایت ہے کہ انھیں آنحضرت نے فرمایا کہ یا عبد الله لا تکن مثل فلان كان يقوم من الليل فترك قيام اللیل سے اسے عبداللہ فلاں کی طرح نہ ہو جو پہلے قیام لیل کیا کرتا تھا اور پھر اس نے چھوڑ دیا۔ معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی نا پسند تھی کہ جو عمل اختیار کیا جائے ۔ اس پر مداومت نہ اختیار کی جاتے۔ اسی لیے آپ نے عبداللہ کے سامنے اس شخص کا نام لیکر کہا کہ اس کی طرح نہ کرنا ۔ ورنہ آپ کی عادت نہ تھی کہ کسی کا نام لیکر اس کا عیب بیان کریں۔ آگے حضرت عبداللہ نے اس بات کا لحاظ رکھا کہ روایت میں اس کا نام نہیں ظاہر کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی ہر روز دو رکعت نفل پڑھے تو وہ بہتر ہے یہ نسبت اس کے جو ایک ہی دن میں سو یا پچاس یا چالیس رکعت پڑھ کر پھر چھوڑ دے ۔ اسی طرح وہ شخص جو ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھتا ہے بہتر ہے اُس کی نسبت جو ایک دفعہ تو سال بھر تک روزے رکھتا ہے اور پھر نام نہیں لیتا۔ یا اسی طرح ایک ایسا شخص جو ایک دن محنت کرتا کرتا چوبیس گھنٹہ ختم کر دیتا ہے ، لیکن پھر اس کام کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ اس کی نسبت وہ اچھا ہے جو روزانہ تھوڑا تھوڑا کرتا رہتا ہے۔ یہیں ہر کام میں استقامت کی ضرورت ہے اور استقامت کے سوا کوئی عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ ان الدين کيسر ولن يشاء الدين احد ۔ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَ الشروا و استعینو کہ دین آسان ہے، لیکن اگر کوئی اس میں سختی کریگا تو دین اس پر غالب آجائیگا۔ اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور نزدیک رہوا اور ثواب کی امید رکھو اور استقامت مانگو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال میں غلو کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے له بخاری کتاب الرقاق باب القصد و المداومة على العمل : له ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوة باب ما جاء في قيام الليل بخاری کتاب الایمان باب الدین میسر