خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 74

۷۴ اسلام کو مانتے ہیں کہ ان کے ماں باپ مسلمان تھے اور اس سے زیادہ ان کو کوئی خبر نہیں ۔ تو کیا کوئی شخص یہ تسلیم کرنے کو تیار ہو جائے گا کہ ایسے شخص کی اطاعت کی جا ہے۔ اگر ایسا ہوتو اس کا نتین برگزاری کے اور کیا ہو گا ۔ اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ اطاعت تو اس کی ہوتی ہے جس میں عرفان اور تقویٰ ہو۔ اور وہ اس قابل ہو کہ صراط مستقیم پر دوسروں کو لے جاسکے ۔ غرض اس آیت میں قابل اطاعت لوگوں کا ذکر ہے۔ ماننے والوں کی تعداد کی قلت و کثرت کی بحث نہیں ۔ پس اس آیت سے قلت و کثرت کو معیار صداقت قرار دینا غلطی ہے ۔ بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ بدوں غور و فکر کے یونی کسی نے بکواس کی اس کے ماننے کے لیے تیار ہو گئے مگر قرآن مجید اس سے منع کرتا ہے۔ اور اس آیت میں تو خصوصیت کے ساتھ وہ اس اصل کو بیان کرتا ہے کہ اطاعت کے قابل تھوڑے ہوتے ہیں۔ بلکہ اقل کی اطاعت ہوتی ہے۔ خواہ سب کے سب سنتے ہی ہوں، لیکن وہ سب اس قابل نہیں ہوتے کہ مطاع ہو سکیں مثلاً احمدی ہیں ۔ کیا وہ سب کے سب گمراہ ہیں ؟ ہرگز نہیں لیکن کیا ہر احمدی سے فتویٰ پوچھا جائے گا۔ اور اسے یہ درجہ دیا جائے گا کہ وہ شریعت کے احکام بتاتے اور نماز روزہ کے مسائل اس سے بطور فتوے پوچھے جائیں ؟ کبھی نہیں ۔ اگر ایسا ہوگا تو ٹھوکر لگنے کا احتمال ہو گا ۔ وہ ایک مسلمان ہے کیونکہ میں احمدی اور مسلمان کا ایک ہی مفہوم سمجھتا ہوں ۔ وہ ناجی ہے۔ قرآن مجید اور رسولوں پر یقین لاتا ہے۔ جزا دینا اور قیامت کو مانتا ہے اللہ اور اس کے ملائکہ پر ایمان لاتا ہے مسئلہ قدر کو مانتا ہے پھل اور آنیوالی وحی پر ایمان لاتا ہے۔ مگر بایں ہر شخص میں یہ طاقت نہیں کہ وہ مطاع ہو سکے پیس خوب یاد رکھو کہ یہاں ہدایت یافته یا گراہ کا ذکر نہیں۔ بلکہ قابل اطاعت کا ذکر ہے ۔ چنانچہ فرمایا وان تطع اكثر من في الارض اگر تم اکثر فی الارض کی اطاعت کرو گے تو وہ خدا تعالیٰ کی راہ سے تمہیں دور لے جائیں گے ۔ ہر شخص جس کو عرفان یا علم نہیں وہ کیا بنائے گا۔ جو شخص ایک عالم باللہ کی موجودگی میں جب ایسے شخص سے فتوی پوچھے گا جو اہل نہیں تو قابل الزام ہوگا ۔ اور اس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کیا ہو گا ۔ یہ بھی یاد رکھو کہ جس موقع پر یہ آیت ہے ۔ وہاں مشرکوں کا ذکر ہے، لیکن اگر مسلمانوں کا ذکر ہو تو وہ گراہ نہیں مگر اطاعت کے بھی قابل نہیں۔ ہاں وہ ساتھی ہیں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مطاع تھے باقی احمدی جس قدر تھے وہ با ہم بھائی تھے۔ حضرت صاحب کے مطارع اور ہمارے مطیع ہونے سے ہمارے