خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 66

५५ پڑے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، لیکن یہاں خدا تعالیٰ مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جب مقابلہ پڑتا ہے اسی وقت ان کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ یہ موقع ہمارے لیے گھرانے اور تشویش کرنے کا نہیں کیونکہ یہ حملے اور سختیاں تو خدا اور رسول کے فرمودہ کے بموجب ہیں ۔ پھر گھبرانے اور پریشان ہونے کی کیا وجہ ہے۔ مصائب اور ابتلاء ہی جھوٹے اور بیچتے میں فرق کیا کرتے ہیں اور تکالیف میں ہی یہ حقیقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ حقیقی ایمان کس کا ہے اور کون ایمان سے خالی ہے۔ یوں تو ابو بکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار میں اور نور الدین مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میں کبھی خود آگے بڑھ کر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ سر جھکائے پیچھے بیٹھے رہتے تھے۔ برخلاف اس کے عبداللہ ابن ابی ابن سلول رسول اللہ کے حضور اور وہ لوگ جو الگ ہو گئے ہیں مسیح موعود کے حضور آگے آگے ہو کر بیٹھتے تھے، لیکن جنگ اور ابلا کے وقت میں کسی نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر نہ کہاں اور عبد اللہ بن ابی کہاں تھا ؟ عبد اللہ بن ابی تو حضور کو روکتا ہے اور کہتا ہے ۔ جنگ سے فائدہ ہی کیا۔ مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم کے آگے آگے ہیں۔ پس جو بہادر آدمی ہوتے ہیں وہ وقت پر اپنے جوہر دکھلاتے ہیں اور جو بزدل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی چال ڈھال سے تو بہادری ظاہر کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے اس اظہار میں جھوٹے ہوتے ہیں۔ وہ خطرہ سے پہلے ایمان ایمان کا شور مچاتے ہیں ۔ مگر جب خطرہ آتا ہے تو ایمان کو چھوڑ چھاڑ بیٹھتے ہیں ۔ ہاں وہ لوگ جو در حقیقت ایماندار ہوتے ہیں۔ خطرہ سے پہلے خاموش رہتے ہیں اور جب خطرہ آجاتا ہے تو پھر جان تک لڑا دیتے ہیں پس بزدل اور ایمان میں کچے کچے خطرے اور مصائب سے پہلے دعاوی بہت کرتے ہیں، مگر وقت پر بودے نکلتے ہیں ۔ اور ایمان دار پہلے اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہیں اور کوئی بڑائی کی بات نہیں کہتے ۔ بلکہ خطرے کے وقت ان سے کوئی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔ تو جس قدر ابتلاؤں اور سختیوں میں شدت ہوتی جائے گی۔ جو پیچھے ایماندار ہیں۔ ان کے ایمان میں میں زیادتی ہوگی ۔ اور ان کی قربانیاں بڑھتی جائیں گی۔ اور ان کو اور دین کی خدمت کا جوش ہو گا۔ اور اخلاص بڑھتا چلا جائے گا اور جو کمزور ہوں گے وہ الگ ہو جائیں گے۔ حضرت نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آیا ہے کہ آپ ایک دفعہ رستہ میں چلے جا رہے تھے اور مریدین ساتھ تھے۔ رستہ میں ایک چھوٹا بچہ ملا ۔ آپ نے اس کا منہ چوم لیا۔ تمام مرید جو ساتھ تھے انہوں نے بھی اس بچہ کا منہ چوما، لیکن آپ کے بعد جو آپ کے خلیفہ ہوتے ۔ وہ خاموش کھڑے رہے کامنہ باقی مریدوں نے ان پر نفاق کا فتوی لگایا ۔ مگر وہ خاموش رہے ۔ اسی طرح پھر حضرت نظام الدین راستہ میں چلے جا رہے تھے۔ کہ ایک بھٹیارہ آگ جلا رہا تھا ۔ آپ نے بڑھ کر اس آگ کو چوم لیا۔ جو آپ کے