خطبات محمود (جلد 6) — Page 573
۵۷۳ اس لیے فساد کے افعال کرتا ہے کہ مصلح بن جاتے تو وہ اچھا نہیں کرتا۔ کانٹے بوکر کسی شخص کو امید نہ رکھنا چاہتے کہ وہ گیہوں کاٹے گا۔ حنظل لگا کر انگور کی توقع رکھنا جہالت ہے۔ پس فساد کے ذریعہ اصلاح کا خیال خام ہے ۔ کیونکہ فساد سے فساد ہی پیدا ہو گا ۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے آدمی اپنے ہر ایک کام میں یہ سوچا کریں کہ ان کے قول یا فعل کا اثر ان پر ان کے عزیزوں پر ان کے دین پر کیا پڑے گا۔ وہ لوگ جو اپنے افعال و اقوال ہیں ران پیران - احتیاط سے کام نہیں لیتے اور کسی نہج سے فساد کا باعث ہوتے ہیں۔ وہ بڑی سے بڑی سزا کے مستحق ہیں۔ یہ غلط اصل ہے کہ دوسروں کو ایماندار بنانے کیلئے اپنے ایمان کو ضائع کر دیا جائے ۔ سب سے پہلا حق اصلاح کے لیے اپنے نفس کا ہے۔ دیکھو ہم ہمیشہ اس امر کی تردید کیا کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا ۔ اور ہم سب یقین رکھتے ہیں کہ اسلام علاج ہے تمام خرابیوں کا۔ اس اصل کا پابند کہ اصلاح کے لیے فساد کرنا چاہتے کہے گا کہ اسلام کوضرور تلوار کے روز سے پھیلانا چاہیتے مگر خداتعالی اس عمدہ علاج کو بھی زبردستی ہیں پھیلانا چاہتا کیونکہ وہ اصلاح اصلاح ہی نہیں جو فتنہ کی محتاج ہے اور وہ راستی بے حقیقت ہے جو جھوٹ کے سہارے پر قائم ہوتی ہے اگر کوئی شخص کی قائم کرنے کیلئے تلوار چلاتا ہے ۔ تو وہ برا کام کرتا ہے ۔ کیونکہ خدا نے مذہب کے لیے بھی جائز نہیں رکھا کہ زور سے پھیلایا جاتے ۔ پس جب خدا بھی اپنے مذہب کو جبر سے پھیلا نا جائز نہیں رکھتا۔ تو پھر تم اپنے کسی خیال کو جس کے متعلق تمہیں یقین نہیں۔ وہ ضرور ہی درست ہے کیوں زبردستی فساد انگیز طراقی سے منوانا چاہتے ہو۔ اگر اصلاح مد نظر ہے تو ان جائز طریقوں سے کرو جو کسی اصلاح کے لیے مقرر ہیں۔ اگر کوئی شخص صحیح ذرائع سے اصلاح کرنے میں بھی ناکام رہے تو سمجھے کہ یہ اس کا خیال صحیح نہ تھا۔ ورنہ اگر اس کا اصلاح کا خیال درست ہوتا ۔ تو اس کے قبول کرنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ قلوب کو تیار کر دیتا۔ جو لوگ اپنے خیالات کو پھیلانے کے لیے غلط طریقوں سے کام لیتے ہیں اور لوگ ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتے ۔ ان کو فساد کا موجب نہیں ہونا چاہتے بلکہ سمجھ لینا چاہیئے کہ ان کے خیالات درست نہیں ۔ یا وہ ذرائع ٹھیک نہیں۔ جو انہوں نے استعمال کئے ۔ دیکھو اسلام نے اپنے خیالات تو الگ رہے ۔ اپنے حقوق کے متعلق بھی کسی قدر ضبط کی تعلیم دی ہے رسول کریم سے پوچھا گیا کہ اگر ایسے حاکم ہوں جو اپنے حقوق تولیں اور ہمارے نہیں۔ تو ہم کیاکریں۔ اپنے جو فرمایا کہ ان کے حقوق دو۔ اور اپنے حقوق خدا پر چھوڑ دو وہ خود لیگا وہ ایسے لوگوں کو تباہ کر دیا۔ جو اپنے حقوق لیتے اور دوسروں کے غضب کرتے اور اصلاح کی طرف نہیں آتے ۔