خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 569

۵۶۹ تو اگرچہ نقصان تو ایک لاکھ کا بڑا ہے مگر ان پچاس روپیہ سے جو پچاس شخصوں کے تھے۔ بلحاظ اثر کے تھوڑا ہے۔ کیونکہ لاکھ کا اثر ایک ہی شخص کی ذات پر ہے۔ اور پچاس روپیہ کے نقصان کا اثر پچاس ہوا ہے کیونکہ اشخاص : نی ذات پر پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص اپنے لاکھ روپیہ کے کپڑے کی دکان جلائے تو اگر چہ لوگوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ مگر زیادہ اثر مالک پر ہی ہوگا، لیکن اگر کوئی پچاس آدمیوں کا ایک ایک روپیہ کا کپڑا جلاد جلا دے یا پھاڑ دے ۔ تو اس کا اثر زیادہ وسیع ہوگا ۔ ہے پس ایسے اعمال جو اپنے اثرات کے لحاظ سے لوگوں کے لیے مضر اور خطر ناک ہوں۔ ان میں انسان کو شامل ہونے سے بچنا چاہتے ۔ اسی قسم کے اعمال میں سے جو دنیا کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک فساد بھی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَا تُفْسِدُ وَإِفِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا۔ جب اصلاح ہو چکی ہو یا ہو رہی ہو۔ تو اس میں دخل دینا اور رکاوٹ ڈالنا بہت نقصان رساں ہوتا ؟ ہر ایک فعل کا اثر ہوتا ہے۔ اگر برا فعل ہے۔ تو بُرا اثر ہوگا۔ اور اگر نیک ہے تو نیک ۔ پھر اگر صرف اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے تو اسی پر۔ اور اگر دوسروں سے تعلق رکھتا ہے۔ تو ان پر بھی ہو گا ۔ اس قسم کے کسی فعل کے کرنے سے کسی کو ہدایت کرنا یا سمجھانا کہ وہ اس سے باز آئے ۔ اسی حد تک جائز ہے جس سے فساد نہ ہو۔ اگر عملی طور پر سمجھانے اور روکنے کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے یعنی ہم تو اپنے خیال میں اصلاح کرتے ہیں۔ مگر اس سے دوسروں پر برا اثر پڑتا ہے۔ تو یہ فساد ہے دیکھو منافق اپنے فساد پھیلانے کی کوششوں کا نام اصلاح رکھتے تھے۔ لیکن اصل میں اس اصلاح کا نتیجہ مسلمانوں کے لیے نقصان رساں تھا۔ کیونکہ اس سے کلمہ اسلام متفرق ہوتا تھا اور منافق اپنی جان بچانا چاہتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ کفار نے اسلام کے مٹانے کے لیے شمشیر اٹھالی تھی۔ اس وقت ان کے دفع شہر کے لیے ضرورت تھی کہ شمشیر اٹھائی جائے ۔ وہ لوگ اس کو روکتے تھے اور اس کا نام اصلاح رکھتے تھے ۔ حالانکہ اس طرح وہ فتنہ کو اور بڑھاتے تھے۔ کیونکہ جب وہ سلمانوں کے خلاف کفار کی تکلیفوں اور شرارتوں کو دیکھتے اور مسلمانوں کو روکتے تھے کہ ان کا جواب نہ دو تو گویا وہ اس طرح ظالم کی مدد کرتے تھے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے فساد قرار دیا۔ اگر چہ منافق اپنے فعل کو اصلاح ہی کے نام سے نامزد کرتے تھے مگر در حقیقت یہ فساد تھا۔ پھر ان فتنوں کے کاموں میں میں دیکھتا ہوں کہ سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ اصلاح کے سرچشمہ پر حملہ کیا جائے ۔ مثلاً ایک شخص مریض کو دکھ دیتا ہے ۔ دوائی نہیں پہنچا تا۔ یہ برا کام کرتا ہے مگر جو ہسپتال میں جاتا۔ اور تمام دواؤں میں زہر کا دیتا ہے۔ وہ بہت بڑا مجرم ہے۔ پہلے کے فعل سے ایک