خطبات محمود (جلد 6) — Page 563
۵۶۳ نے جو وعدہ کیا تھا۔ اس کو پورا کرو۔ اور ادھر مقروض کسے کہ خدا کا حکم ہے کہ سختی نہیں کرنی چاہیتے ۔ تو ساد ہوگا لیکن ایک تیسرا شخص دونوں کو ان کے فرائض یاد دلا سکتا ہے اور اس طرح کوئی فساد نہیں ہو سکتا ۔ پس جب مہمان آتے ہیں۔ تو جو شخص کھانا کھلانے پر مقرر ہو۔ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جاتے اور مہمان اس کی شکایت کریں۔ تو اس کا کام ان کو نصیحت کرنا نہیں۔ نہ ان کو ان کے فرض یاد دلانا اس کا کام ہے۔ بلکہ اس کا فرض ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور ان سے معافی چاہیے ۔ اور اسی طرح اگر مہمان ان کو یہ کسے کہ روٹی کھلانے والے لکھتے ہیں۔ کسی کام کے نہیں۔ اپنا فرض ادا نہیں کرتے تو ان کا نصیحت کرنا بھی درست نہیں۔ اس کے یہ معنے ہیں۔ کہ یہ شریعت کے حکم کے پردے میں اپنے بعض کو اور غصہ کہ یہ حکم میں کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کام بھی ایک تیسرے شخص کا ہے کہ ان کو نصیحت کریے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے جلسہ پر مہمانوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے مگر بیسیوں دفعہ اس میں منتظم کا دخل نہیں ہوتا اور ہے اس اور بہت دفعہ دفعہ تھوڑی سی توجہ سے اس غلطی کی اصلاح کی جا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں منتظم کا نصیحت کرنا نا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ اس نصیحت کو نصیحت نہیں خیال کیا جاتا ۔ بلکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح اپنا پیچھا چھوڑاتے ہیں۔ ن پس میں قادیان کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں ۔ اور ابھی سے کہ جلسہ میں ابھی بیس روز رہتے ہیں۔ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں۔ پہلے میں ایک آدھ جمعہ پہلے کہا کرتا تھا۔ اب دو جمعہ لمیان چھوڑ کر کہتا ہوں کہ ابھی اپنے فرض کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ میں نے بار ہا نصیحت کی ہے، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ ابھی تک ایک بھی نہیں جس نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہو۔ خوب یاد رکھو کہ تم خالی اخلاص سے کچھ نہیں کر سکتے جب تک اخلاص کے ساتھ تمہاری تربیت : نه ہوئی ہو۔ تم میں بہت ہیں جو مخلص ہیں۔ اور بہت ہیں جو دین سے محبت رکھتے ہیں۔ مگر بہت ہی کم ہیں جو تربیت یافتہ ہیں۔ تربیت جہاں کام دے سکتی ہے۔ وہاں محض تمہا را اخلاص کام نہیں آسکتا دیکھو اگر تم ایمان میں حضرت ابوبکری کے برا ب بھی ہو جاؤ۔ تو محض ایمان میں ترقی یافتہ ہونا تمہیں دشمن کے مقابلہ میں لڑائی کے فن سے واقف نہیں کر سکتا۔ لڑائی کا فن اسی وقت آئیگا ۔ جب تم با قاعدہ تربیت پاؤ گے۔ اور شق کرو گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بڑے مخلص تھے۔ مگر تربیت کی ان کے لیے بھی ضرورت تھی۔ اسلیئے وہ لوگ تیر اندازی اور دیگر فنوں کی باقاعدہ مشق کرتے تھے ۔ دیکھو تربیت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اپنی نماز کی صفوں کوسیدھا کرو ورنہ خدا تمہارے دل ٹیڑھے کر دیگا۔یہ ہیں لے مسلم بروایت مشكوة كتاب الصلواة باب تسوية الصفوف