خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 538

۵۳۸ کوشش کا انحصار صرف علماء پر وہ علما کا کم ہی اور ہے اور وہ اسروں اور راہ نماؤں کا کام دے سکتے ہیں۔ جس طرح افسر فوجی سپاہیوں کا سارا کام سرانجام نہیں دے سکتے ۔ اسی طرح علماء بھی تبلیغ کا سارا کام نہیں کر سکتے ۔ ان کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو ان کی نگہداشت میں کام کریں اور کر سکتے۔ کی ہے ان سے تربیت حاصل کر کے خود عمل کریں کیونکہ دوسرے لوگوں کو عوام کے ساتھ ملنے کے موقع جھتے رہتے ہیں ۔ اور اس میں جول سے جس قدر ان کو لوگوں کی طبائع کی واقفیت ہوتی ہے۔ اتنی علماء کو نہیں ہوتی۔ کیونکہ عوام علماء سے نہیں ملتے اور نہ منا چاہتے ہیں۔ دیکھو عام لوگ لوگ عیسائیوں سے ملتے اور باتیں کرتے ہیں لیکن پادریوں سے نہیں ملتے ہیں ۔ اسی طرح عوام علماء سے نہیں ملتے ۔ دوسرے لوگوں سے ملتے ہیں کیونکہ ان سے نڈر ہوتے ہیں۔ اور علماء کے متعلق سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ان کے پاس گئے تو شکار ہوجائیں گے لیکن اگر ہماری جماعت کے عام لوگ اپنے اندر ایسی طاقت پیدا کرلیں کہ ملنے والوں کو پکڑ سکیں ۔ تو جو شخص الا لوں کو پکڑ سکیں ۔ تو جو شخص ان سے ملے گا۔ وہ شکار ہو جائے گا۔ پس صرف علماء پر تبلیغ کا دار و مدار رکھنا درست نہیں اور اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ایسے محدود اور تنگ حلقہ میں تبلیغ کو محصور کر دیا جائے کہ جس سے نکل ہی نہ سکے کیونکہ کوئی بڑاہی شوقین چوٹی والا اور تیز طبع رکھنے والا ہو ۔ تو علماء کے پاس آنے کی جرات کرے گا ۔ ورنہ جب عوام کو معلوم ہو کہ یہ علماء ہیں تو کہیں گے کہ ہم مولوی ثناء اللہ کو لائیں گے تب باتیں سنیں گے ۔ تو علماء کا کام لیڈری اور راہ نمائی ہے اور یہ کام کہ عوام کے اندر گھس کر ان کو تبلیغ کریں ۔ عام لوگوں کا ہے۔ وہی ان کے اندر جا کر ڈائنامیٹ کا کام دے سکتے ہیں۔ جس طرح عمارت تھے نیچے بارود رکھ کر اگ دینے سے وہ اڑ جاتی ہے۔ اسی طرح عوام لوگوں کے اندر گھس کر کام دے سکتے ہیں ۔ اس لیے ہماری جماعت ماعت کے ہر ایک شخص کو اس ط و اس طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔ اور تبلیغ میں لگ جانا چاہیئے ۔ پھر یہ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ تبلیغ صرف دلائل سے نہیں ہوتی ۔ تبلیغ اخلاق محبت پیار اور الفت سے ہوتی ہے جس کے دل میں کسی کا درد ہوتا ہے۔ اس کی طرف وہ خود بخود کھنچا چلا آتا ہے۔ تم اس طریق کو بدل دور جو بحث مباحثہ کا ہے ۔ اس طرز عمل کو بدل دو کہ وفات مسیح کی دلیل کا جواب جب کوئی نہ دے سکے ۔ تو اس پر قہقہ لگایا جائے کہ چپ ہو گیا ہے۔ تم اس طریق پر عمل کرو کہ تمیں ہارنا منظور ہو مگر تمہاری باتوں میں ہمدردی اور اخلاص پایا جاتے ۔ یہ طریق ہے کامیابی حاصل کرنے کا۔ وہ شخص جو بحث اس لیے کرتا ہے کہ مجلس میں اپنا رنگ جماتے ۔ اس کی باتوں کا اثر