خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 533

۵۳۳ اور نہ بیان کرنے سے نقصان یا بعض ایسے کہ چن کے بیان کرنے سے فائدہ ہوتا ہے اور نہ بیان کرنے سے نقصان نہیں ہوتا ۔ حاکموں اور ذمہ والے لوگوں کے پاس عیب بیان کرنے پر قرآن نے اور رسول کریم صلی للہ علیہ وسلم نے بہت زور دیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی رکھا ہے کہ ایسے عیب کہ جن کے بیان کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو یا جن کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔ بلکہ ذاتی عیوب ہوں۔ ان کو بیان نہیں کرنا چاہیئے۔ ان کے بیان کرنے سے خاص طور پر روکا گیا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صل اللہعلیہ سلم نے فرماے کہ لوگوں کے عیب میرے سامنے اس رنگ میں بیان نہ کرو کہ میرے دل میں ان سے نے ان سے نفرت پیدا ہو رہی اچھا ہے کہ میں جب جب گھر گھر سے سے نکلوں تو سب کی محبت میرے دل میں ہوئے تو حاکم یا قاضی یا خیف یا امام کے پاس کسی کے ذاتی عیب اس لیے بیان کرنے کہ اس کے دل میں نفرت پیدا ہو۔ منع ہیں۔ صرف ایسے عیب بیان کرنے جائز ہونگے کہ جن کی اصلاح کی طرف توجہ دی جا سکے یا ایسے کہ اگر نہ بیان گئے جائیں تو دوسروں کو نقصان پہنچے، لیکن اگر یہ نہ ہو تو امام یا خلیفہ کے پاس ان کا بیان کرنا نا جائز ہوگا۔ غیبت کے یہ پہلو ہیں۔ ان کو مد نظر رکھنا ہر ایک مومن کے لیے ضروری ۔ ری ہے اور چونکہ یہ ایک عام عیب ہے۔ اس لیے جب تک اس کی طرف خاص توجہ نہ رکھی جائیگی ۔ اس سے بچنا مشکل ہوگا ۔ کیونکہ جو باتیں انسان سے عادتا سرزد ہو جاتی ہیں۔ اُن پر جب تک ایک لمبے عرصہ تک خیال نہ رکھا جائے ۔ انسان بیچ نہیں سکتا ۔ غیبت چونکہ عادت کے طور پر کی جاتی ہے ۔ اس لیے اس کے متعلق بھی سوچنا چاہیئے ۔ اور ایک لیے عرصہ کے بعد انسان اس سے بیچ سکے گا۔ پیس چونکہ یہ ایک عام مرض ہے ۔ اس لیے اسے خاص طور پر مد نظر رکھو۔ یوں خواہ عہد کر لوکہ غیبت نہیں کرینگے، لیکن اس طرح نہیں بچ سکو گے اور مکن ہے یہاں سے اُٹھتے ہی کوئی کرنے لگ جائے۔ کیونکہ اسے اس بات کا احساس ہی نہیں ہو گا کہ میں غیبت کر رہا ہوں ۔ بلکہ وہ عادتا کریگا پس اسی وقت یہ عہد بھی کر لوکہ اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہیں گے اور دیکھتے رہیں گے کہ نیبت سے آلودہ نہ ہوئی۔ اس طرح اگر کرو گے تو چار پانچ چھ ماہ یا جتنی جتنی کسی کی استعداد ہوگی ۔ اس کے مطابق وہ جلدی بیچ سکے گا اور پھر اس کی یہ حالت ہو جائیگی کہ پہلے جس طرح بغیر احساس کے غیبت کرتا تھا اسی طرح بغیر کوشش اور سعی کے غیبت سے بچتا بیچتا رہے گا۔ خدا تعالی ہماری جماعت کو اس بات کے سمجھنے کی توفیق دے ۔ آمین الفضل ر نو میره ) له ابو داود بروایت مشکوه کتاب الادب باب حفظ اللسان والغيبة والشقم