خطبات محمود (جلد 6) — Page 531
۵۳۱ گناہ ہے ۔ لا اگر سیکو معلوم ہو کہ فلا شخص مفیداور فائدہ رساں چیز کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے یا گونٹ کے خلاف کوئی کارروائی کر رہا ہے یا جماعت کے خلاف کسی شرارت سے کام لے رہا ہے یا کسی کے خاندان کو تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے یا کسی فرد واحد کو نقصان پہنچانے لگا ہے تو اس کا چھپانا گناہ ہو گا۔ اور اس کا ظاہر کرنا غیبت نہیں کہلاتے گا۔ بلکہ یہ جائز اور ضروری ہوگا۔ اور کرنا نہیں گا بلکہ یہ جائز اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ جو جماعت کے خلاف سازش کرتے۔ بد گوئیاں کر کے جماع کیسے انتظام کو بگاڑتے، خرابیاں بیان کر کے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتے ہیں۔ ان کی باتیں سننے والا اگر خاموش رہے اور یہ سمجھے کہ میں نے ثواب کا کام کیا ہے۔ تو یہ صحیح نہیں۔ ایسی باتوں کے متعلق خاموش رہنا تو اب نہیں، بلکہ گناہ ہوگا۔ کیونکہ جو شخص ایک جماعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اُسے اگر قتل بھی کرنا پڑے تو ضروری ہے ۔ اسی طرح وہ شخص جو جماعت کا قائم مقام ہو۔ اس کا قتل کرنا جماعت کا قتل کرنا ہو گا اور یاد رکھنا چاہیئے۔ قتل کرنا تلوار سے ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے درجہ اس کی حیثیت کو کم کرنا یا اس کے خلاف برائی اور بد دل پھیلانا بھی قتل کرنا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کو جس نے ایک دوسرے شخص کی اس کے منہ پر تعریف کی۔ فرمایا تو نے اس کو قتل کر دیا ہے تو قتل کئی طرح سے کیا جاتا ہے۔ پس اگر کوئی ایسی بات کو چھپاتا ہے۔ جو جماعت کے خلاف ہے جماعت کے قائم مقام کے خلاف ہے تو وہ گناہ کرتا ہے۔ کیونکہ جس طرح کسی کا عیب بلا وجہ بیان کرنا گناہ ہے اسی طرح اگر کوئی جرم کا ارتکاب کر رہا ہو۔ تو اس کا چھپا نا منع ہے ایسے فعل چار قسم کے ہوتے ہیں۔ (1) اگر کوئی حکومت یا امام کے خلاف شرارت کر رہا ہو۔ تو اس کا چھپا نا منع ہے (۴) اگر کوئی ایسا فعل کر رہا ہو کہ اس کی ذات کو اس سے نقصان پہنچنے والا ہوں۔مثلاً کوئی شخص زہر کھانے لگا ہو۔ اس کو اگر کوئی شخص ایسا ہے جو روک سکتا ہے تو اُسے نہ بتانا گناہ ہے (۳) یہ کہ ایک ایسا عیب ہے جس کے بیان نہ کرنے سے اس کی ذات کو نقصان پہنچتا ہو۔ مثلاً کسی نے اس کا مال دیا لیا ہو۔ اور وہ قاضی کے پاس عدالت میں جا کر اس بات کو بیان نہ کرے ۔ تو اُسے مال کسی طرح مل سکے گا۔ تو ایسی باتوں کا بیان کرنا بھی جائز ہے۔ ہاں اگر بیان نہ کرے۔ تو گناہ نہیں ہے ۔ یا مثلاً کسی نے اس کو مارا ۔ اس کے له بخاری و مسلم بروایت مشکوة کتاب الادب باب حفظ اللسان والغيبة والشتم