خطبات محمود (جلد 6) — Page 529
۵۲۹ اس تمہید کے بعد میں بتاتا ہوں کہ غیبت کیا ہے۔ اکثر اس کو سمجھتے نہیں اور کرتے ہیں۔ بالعموم لوگ کہتے ہیں کہ پیٹھ پیچھے جھوٹی بات بیان کرنا غیبت ہوتی ہے۔ مگر اصل میں غیبت اس کو نہیں کہتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ تعریف کی ہے کہ ایسی بات جو کسی بھائی کی پیٹھ پیچھے گے ۔ اور وہ اُسے بُری لگے۔ اور وہ چی ہو۔ ہر ایک بات پیٹھ پیچھے کرنا غیبت نہیں۔ مثلاً اگر کوئی کسے فلاں آدمی بڑا نیک ہے تو یہ غیبت نہیں ہو گی۔ اور نہ ہی غیبت یہ ہے کہ کسی کے متعلق پیٹھ پیچھے جھوٹی بات کیے۔ یہ تو افتراء ہے ۔ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا سچی بات کہنی بھی غیبت ہے ۔ آپ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے۔ اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو وہ افتراء کرتا ہے لیے پس غیبت کے معنی ہیں کہ کسی کے پیچھے وہ بات بیان کرنا کہ جے اگر وہ کتنے تو اُسے بُری لگے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میںپائی جاتی ہے تی خواہ فی الواقع اس میں ہو یا نہ ہو۔ مو یہاں میں نے سمجھنے کی شرط اس لیے لگا دی ہے کہ اگر کوئی غیبت کرتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو کچھ وہ کہتا ہے ۔ وہ فی الواقعہ صحیح بھی ہے ۔ ہاں یہ ہوتا ہے کہ بیان کرنے والا اس کے متعلق الیسا سمجھتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ غیبت کی یہ تعریف معلوم کر کے بہت لوگ اس سے بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ اکثر اس لیے اس کے مرتکب ہوتے ہیں کہ سمجھتے نہیں غیبت کیا ہے اور اچھے اچھے پڑھے لکھنے کہدیا کرتے ہیں کہ سچی بات کو بیان کرنا غیبت نہیں۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جھوٹی بات غیبت نہیں۔ بلکہ بیان کرنا نہیں، رسول مایا علی کا ہیں ٹی این بہتان اور افترار ہے۔ تو ایک بات کو سچا سمجھ کر بیان کرنا غیبت ہے ۔ پھر اکثر لوگ سمجھ کر غیبت کرتے ہیں کہ یہ اپنی ذات میں کوئی بری بات نہیں۔ حالانکہ غیبت کی برائی اول تو یہی ہے کہ اس کے ذریعہ جس پر کوئی الزام لگایا جاتا ہے۔ وہ دور نہیں کر سکتا ۔ مثلاً اگر کوئی ایک بھائی کے متعلق کہے کہ نماز نہیں پڑھتا ۔ یا چوری کرتا ہے۔ مگر اُسے پتہ بھی نہ ہو۔ تو اس سے زیادہ اور کیا ظلم ہوگا۔ دیکھو خطر ناک سے خطرناک مجرموں کو بھی عدالتیں اپنی بریت کا موقع دیتی ہیں۔ پھر کسقدر ظلم ہے کہ ایک بھائی پر الزام لگا کر اس کو بریت کا موقع نہ دیا جائے ۔ قرآن کریم نے اس کو الیا بتایا ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانا چنانچہ فرماتا ہے۔ ايُحِبُّ أَحَدُكُمُ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا - را الحجرات : ۱۳ ، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے جس طرح اگر کوئی ه مسلم بروایت مشکواة كتاب الادب باب حفظ اللسان