خطبات محمود (جلد 6) — Page 516
۵۱۶ ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ انسان خود بھی لڑائی سے بچے ، اور دوسروں کو بھی لڑائی سے بچائے خود لڑنے والا ایک حد تک معذور کہا جا سکتا ہے ۔ مثلا کسی نے اس کو گالی دی ۔ اس کو غصہ آیا، لیکن جو شخص گلی میں سے گزرتا ہوا اس لڑائی کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے اور لگا دو چار اس خبیث کو یہ ہے ہی الیا" وہ زیادہ مجرم ہے حالانکہ یہ موقع تھا کہ وہ خیال کرتا کہ مجھے اس موقع سے ثواب لینا چاہیئے ۔ اور اس لڑائی کو بند کرا دینا چاہتے چا۔ لیکن جو بند کرانے کی بجائے لڑائی کو اور بھڑکاتے ہیں اور اور فریقین میں میں سے سے جس کی کی طرف ہونے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ اُدھر ہو جاتے ہیں۔ اور دوسرے کو گالیاں دینے یا اس کو اور مارنے کی تحریک کرتے ہیں ۔ یا کہتے ہیں اسے اج دی گل اے " اے تاں پچھوں بھی تینوں گالیاں دیندا ہے ۔ اور خود تماشہ دیکھتے ہیں۔ وہ سخت گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کا فعل امن کو درہم برہم کر نیوالا ہوتا ہے۔ بعض لوگ ایک اور طریق اختیار کرتے ہیں ۔ مثلاً دو شخصوں میں لڑاتی ہے۔ ایک سے بات سنکر دوسرے کے پاس جا لگاتے ہیں اور دو چار اپنی طرف سے اس پر حاشیہ بھی چڑھا دیتے ہیں۔ فرض کئی طریق سے لوگ فتنہ کراتے ہیں، لیکن اسلام فتنوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ بلکہ قرآن مومنوں کو بھائی بھائی بتاتا ہے جس طرح بھائیوں کی حالت ہوتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی ہونی چاہیتے۔ اگر کہیں لڑائی کے سامان ہوں۔ تو ان کو دور کرا دینا چاہیئے ۔ تمہارے ہاتھوں میں مٹی کے تیل کے برتنوں کی بجائے پانی کے برتن ہونے چاہئیں ۔ جن سے آگ بجھے ۔ آگ سے کھیلنے والے نادان ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے میں سلامتی اور کھیلنے میں جان کا خطرہ ہے۔ شیر کے پنجرے کو اس لیے کھولنا کہ وہ سامنے کھڑے ہوئے دشمن کو کھا لیگا۔ نادانی ہے۔ کیونکہ اس کو تو کھا ہی لیگا۔ مگر کھولنے والا شیر سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یاد وکیل یاد رکھو۔ دو کی لڑائی دو کی نہیں ہوتی بلکہ اپنے تعلقات کے لحاظ سے بہت سے لوگوں کی لڑائی ہوتی ہے ۔ مثلاً دو شخصوں میں لڑاتی ہے۔ دونوں کے جسقدر رشتہ دار اور رشتہ داروں کے رشتہ دار ہونگے جو سینکڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان سب میں لڑائی ہوگی اور اس طرح افراد کی لڑائی خاندانوں محلوں شہروں اور ملکوں تک پہنچ جائیگی ۔ تو چھوٹے فساد بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے فساد اور فتنوں سے منع کیا ہے اور قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ انجمنیں بنا بنا کر فساد اور فتنوں کو دور کریں فرمایا۔ لا خَيْرَ فِي كَثير من بخواهم إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ ( النساء ( ١١٥) ار النساء رسوائے اس قسم کی انجمنوں کے اور کوئی انجمن ٹھیک نہیں کہ مشورے ہوں ۔ نیکی کے کاموں کے لیے یا غرباء میں صدقہ بانٹنے کے لیے۔ غرباء کی مدد کے لیے۔ یا لوگوں کی اصلاح اور ان میں آپس میں با