خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 509

۵۰۹ کرے کوئی نہ کرے۔ بلکہ سب کو حکم ہے کہ اپنے اعتقادات صحیحہ کی اشاعت کرو اور اعمال حسنہ کا حکم دور لیکن بہت ہیں۔ جو خود تو کرتے ہیں۔ مگر دوسروں کو شریعت کے احکام کی پابندی کی طرف توجہ نہیں دلاتے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا۔ کہ بہت ہیں جو سرے سے خود بھی عمل نہیں کرتے لیکن خدا کے فضل سے ہم سے ہم میں یہ بات نہیں ۔ ہم میں خود عمل کرنے والے تو بہت ہیں اور بکثرت ہیں، لیکن اگر دکھا جاتے کہ دوسروں سے کہاں تک عمل کراتے ہیں تو اس میں ہم میں کسی قدر کمی نظر آئیگی بہار انجمنوں میں اس پر تو زور دیا جاتا ہے کہ چندہ با قاعدہ دو مگر اس کی طرف سے عقدت کی جاتی ہے کہ کوئی شخص نمانه با جماعت بھی پڑھتا ہے کہ نہیں۔ روزوں کا پابند ہے کہ نہیں ۔ لوگ ایک پہلو پر زور دیتے ہیں اور دوسرے کو ترک کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک پہلو پر زور دینے سے کبھی عمارت مکمل نہیں ہوسکتی۔ عمارت اسی وقت مکمل ہو گی جب اس کے ضروری سے تیار ہو جائیں گے یعنی یہ تو ہو سکتا ہے کہ میسر نہ ہو پھول پتوں اور عالمی کے بغیر تو ایک حد تک مکان مکمل ہو سکتا ہے۔ مگر اس صورت میں مکان بھی عمل نہیں ہو سکتا کہ چھت نہ ہو یا کوئی دیوار نہ ہو ۔ یا پانی اور ہوا اور روشنی کا رستہ نہ ہو اسی طرح ایمان اور اسلام کی تکمیل کے لیے اعتقاد اور عمل کے تمام ضروری سے مکمل ہونے چاہئیں۔ ہیں جہاں خود عمل کرو۔ دوسروں سے عمل کراؤ لیکن اس کے یعنی نہیں کہ تم دوسروں کے عیب تلاش کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی شخص شعار را سلام ترک کر رہا ہے۔ تو اس کو پابند بناؤ یہ مطلب نہیں کہ تم چوری چوری لوگوں کے پیچھے لگے پھر وہ اور ان کے عیب ڈھونڈو بلکہ یہ ہے کہ وہ غلطیاں جو ظاہر اور علی الاعلان پیچھے لگے پھروہ اوراد ہوتی ہیں ان کی نگہداشت کرو۔ اگر کوئی پوشیدہ عیب کرتا ہے تو اس کی تلاش ضروری نہیں، مگر جہاں اعلان اور اظہار کے ساتھ کوئی غلطی ہو۔ اس کی اصلاح ضروری ہے۔ جو لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ وہ اگر دیکھیں کہ کوئی شخص با جماعت نماز نہیں پڑھتا ۔ تو اس کو سمجھائیں اور اس کو آمادہ کریں کہ با جماعت نماز پڑھے اگر کسی شخص نے اس باجماعت نماز نہ پڑھنے والے کو کچھ نہ کہا۔ تو اگر چہ وہ آج ایک ہی ہے لیکن آئیندہ بہت سے با جماعت نماز پڑھنا ترک کر دینگے۔ کیونکہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ یا ایک شخص موٹا تازہ ہٹا کٹا ہے اور بازار میں کھاتا پھرتا ہے ۔ روزہ بلا عذر نہیں رکھتا۔ اگر اس کو نہ روکا جائے تو کٹا اور ہے۔ بلا اگراس نہ روکا اور لوگ بھی سست ہو جائیں گے اور روزہ چھوڑ بیٹھیں گے۔ انسان کی عادت ہے کہ جدھر لوگوں کو چلتے دیکھتا ہے اُدھر ہی چلنے لگتا ہے ۔ فطرت شناسوں نے انسان کی اس عادت۔ اس عادت پر غور کیا اور اس کا ایک اصطلاحی نام رکھ دیا ہے۔ چنانچہ انگریزی میں اس نچہ گود Herdinstinct ) کہتے ہیں۔ چونکہ یہ علوم انگریزی میں ہیں۔ اس لیے انگریزی میں ہیں۔ اس لیے انگریزی