خطبات محمود (جلد 6) — Page 501
(94) السلام ) فرموده تیم اکتوبر ۱۹۲۰ ته) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- قریباً دو اڑھائی سال کا عرصہ ہوا کہ یں نے جمعوں کے خطبوں میں ایک سلسلہ مضامین بیان کرنا شرع کیا تھا۔ ان مضامین کا مقصد یہ تھا کہ ایمان کی عمارت کی تکمیل کیونکر ہو سکتی ہے۔ اور یہ کہ بغیر تکمیل ایمان کے اعلیٰ درجہ کے نتائج کی امید ایک جھوٹی اور عبث بات ہے۔ مکان کی ایک دیوار نہ ہو اور انسان سمجھے آندھی کی گرد اور بارش کے پانی سے محفوظ رہے تو نادانی ہے۔ یا مکان کی چھت نہ ہو۔ اور خیال کر ہے کہ دھوپ اور شبنم سے بچا ر ہے۔ تو بے وقوفی ہے۔ یا مکان میں پانی کے نکاس کا رستہ نہ ہو ور سیم سے بچار اور یہ کیسے کہ مکان گرے نہ ۔ تو کم عقلی ہے ۔ یا مکان میں ہوا کے آنے جانے کے منفذ نہ رکھے اور سمجھے کہ صحت درست اور اچھی رہے گی۔ تو جہالت ہے۔ بارش وغیرہ سے محفوظ رہنے کے لیے چھت اور دیواریں پانی کے نکلنے کے لیے رستہ ہوا کے لیے کھڑکیاں ۔ اور روشنی کے لیے روشندان بھی ہوں۔ پھر دروازے بھی ہوں۔ دروازوں کی زنجیریں بھی ہوں، تب جا کر مکان مکمل ہو سکتا ہے اگر کوئی شخص ایک چیز پر تو سارا زور خرچ کر دے اور باقیوں کو چھوڑ دے تو مکان مکمل نہیں کہلا سکتا۔ مثلاً دیواریں اٹھاتا چلا جاتے آسمان تک اور چھت نہ ڈالے۔ یا دیواریں بنا کر اوپر چھت بھی ڈالر سے مگر پانی کے نکاس کا انتظام نہ کرے یا نہایت اعلیٰ درجہ کی سفید اور مصفی عمارت بناتے مگر ہوا کے منفذ نہ رکھے تو مکان مکمل اور مفید نہیں ہوگا اور کوئی یہ نہیں کہے گا کہ چونکہ بہت روپے خرچ کئے ۔ اور بڑی محنت کی گئی ہے۔ اس لیے یہ مکان بہت اعلی درجہ کا ہے ۔ بلکہ یہی کہیں گے کہ مکان کو نامکمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ تمام قانون قدرت اسی بات پر شاہد ہے کہ بے ہودہ اور فضول محنت اور فضول محنت و مشقت کا بدلہ نہیں ملا کر تا بر خلاف اس کے تھوڑی مگر صحیح محنت کا بدلہ مل جاتا ہے اگر کوئی شخص سالہا سال محنت