خطبات محمود (جلد 6) — Page 492
۴۹۲ ایسے دوسرے کتے کو زخمی دیکھے گا، تواس پر جھپٹے گا ۔ ہاں وہ اس انسان سے ہمدردی کریگا جس نے اسے رکھا ہو گا تو اسی طرح بعض آدمیوں میں ہمدردی ہوتی ہے۔ مگر اپنی قوم اور اپنی جماعت کے لوگوں سے نہیں، بلکہ غیروں سے ۔ حالانکہ سب سے پہلے ہمدردی کے مستحق اپنی جنس اور اپنے لوگ ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے۔ تو لوگوں سے کتے بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے سے افضل کی ہمدردی کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنوں کو مرتا چھوڑ کر غیروں کی ہمدردی کرینگے ۔ اور اس کی غرض یہ ہوگی ۔ تاکہ لوگ انہیں بڑا ہمدرد ہیں۔ مسلمان حاکم ہونگے کم محض وسیع القلب کہلانے کے لیے انصاف اور عدل کو بھی چھوڑ دینگے اور مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دے رینگے تاکہ لوگ کہیں یہ بڑے وسیع القلب اور غیر متعصب ہیں۔ ایسے لوگ کتے سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔ یہ تو غیروں کا حال ہے لیکن ہم میں بھی ایسے ہیں بلکہ قادیان میں پاتے جاتے ہیں جن میں ہمدردی کی کمی ہے اور ان کو آپا دھائی اور نفسا نفسی لگی رہتی ہے۔ اگر ان کی یہی کیفیت رہے گی تو قیامت کو شفاعت کرنے والے ان کے متعلق کہ دینگے کہ ہمیں تمہاری شفاعت کی کیا پڑی ہے ۔ ہاں جو بیاں نفسانی میں مبتلا نہیں۔ دوسروں کی ہمدردی کرتے ہیں۔ ان کے لیے وہاں بھی شفاعت کرنے والے شفاعت کرینگے آتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ دائیں نگا تھا۔ تم تم نے نے مجھے کپڑا نہ دیا میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہ پلایا۔ اورمیں بیمار تھا تم نے میری عبادت نہ کی ۔ بندے کہیں گے کہ خدا وند تو کب بھوکا تھا کہ ہم نے تجھکو کھانا نہ دیا۔ تو کب ننگا تھا کہ ہم نے لباس نہ دیا تو کب پیاسا تھا کہ ہم نے پانی نہ دیا۔ تو کب بیار تھا کہ ہم نے تیری عیادت نہ کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا۔ فلاں ننگا تھا۔ فلاں پیاسا تھا اور فلاں ۔ ر فلاں بیمار تھا تم نے اس سے لیے تو جی کی ۔ تو گویا مجھ ہی سے کی لیے پس جو لوگ دنیا میں نفسا نفسی میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ قیامت کے روز ان سے بھی نفسی نفسی کا معاملہ ہوگا میں دیکھتا ہوں کہ ان کی تازہ مثال ہم میں موجود ہے ۔ ایک شخص کی لڑکی فوت ہوگئی۔ وہ اکیلا اس کاجنازہ لیکر گیا۔ اور راستہ میں دو ایک آدمی اور مل گئے۔ یہ کیوں ہوا۔ اس لیے کہ میں بوجہ بیماری کے اس جنازے کے ساتھ نہ جا سکا۔ میرا قاعدہ ہے کہ سوائے بیماری کے میں حضرت صاحب کے پرانے دوستوں کے جنازوں اور غریبوں کے جنازہ کے ساتھ ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر بھی جاتا ہوں۔ اور ان کے جنازوں کے ساتھ جن کے متعلق میں جانتا ہوں کہ ان کے ساتھ جانے والا کوئی نہیں یا مسافروں کے جنازے کے صحیح مسلم كتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض کے