خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 488

۴۸۸ کہ یہ ایک لطیفہ ہی ہے۔ اور ہمارے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ اگر ہم اس کی راہ میں کوشش کریں۔ تو ہم خدا کے فضل سے آسمان کو اٹھانے کے قابل ہو جائینگے ۔ اس لیے ہمیشہ غور کرنا چاہتے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں وہ لوگ بڑی غفلت میں ہیں جو کہتے ہیں کہ ذرا آرام کرلیں۔ کیونکہ یہاں مومن کے لیے آرام کرنے کی جگہ نہیں در حقیقت روحانی کامیابی کی مثال چکنی جگہ کی ہے کہ اگر ٹھرا تو نیچے کو گیا۔ جن لوگوں کو پہاڑ دیکھنے کا کو اتفاق ہوا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بعض پہاڑی راستوں پر پتے گر گر کر چکنے ہو جاتے ہیں۔ ان پر اگر آدمی تیزی سے سیدھا آگے چلتا چلا جائے۔ تو چل سکے گا۔ ورنہ پھسلنے لگے گا۔ یہیں روحانی حالت بھی ایسی ہے کہ جب تک چلتا جائے محفوظ ہے اور اگر یہ خیال کریگا کہ در استانوں تو مجھو کہ گیا۔ یہ وہ راستہ ہے کہ اس میں کوئی پڑاؤ نہیں ۔ اس کا پڑاؤ وہی ہے۔ جو منزل مقصود ہے۔ ہماری جماعت کی یہ حالت مالی قربانی میں نظر آتی ہے اور مالی قربانی ہی ایک ایسی چیز ہے جو نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس کے رہبر رکھے ہوتے ہیں۔ اور تو کوئی چیز نہیں جس کے رجسٹر ہوں۔ اسی سال میں نے دیکھا کہ بعض وہ اضلاع جن کا روپیہ سلسلہ کے کاموں میں زیادہ خرچ ہوتا ہے ۔ ان میں اس دفعہ مسجد لندن کے چندے کے بعد کچھ مستی ہو گئی ہے ۔ قادیان والے بھی سستی کرتے ہیں جس جوش سے چندے لکھواتے تھے ۔ ان میں بعض رقمیں ادا نہیں ہوتیں۔ لیپس سب سے پہلے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو روحانی سفر میں ٹھہرتا ہے ۔ وہ جان کھوتا ہے۔ اس کے بعد باہر کی جماعتوں کو اسی خطبہ کے ذریعہ مخاطب کرتا ہوں ۔ کہ وہ ہستی کو چھوڑ دیں ۔ عت بعض بڑی بڑی جماعتیں ۔ سیالکوٹ ۔ لائل پور، سرگودھا۔ شاہ پور - حیدر آباد دکن گورداسپور - این میں سے بعض جماعتیں تو وہ ہیں۔ جونتی آبادی کے باعث زیادہ مالی قربانی کرسکتی ہیں۔ بعض علاقوں میں جان کی کثرت ہے اور بعض میں جماعت کے آدمی آسودہ ہیں ۔ مثلاً حیدر آباد سپیس میں سب سے پہلے قادیان والوں کو نصیحت کرتا ہوں ۔ اور پھر باہر والوں کو اسی خطبہ کے ذریعہ جو اخبار کے ذریعہ اُن تک پہنچ جائیگا کہ یہاں ٹھرنا اور مستی کرنا بہت خطرے کا مقام ہے۔ جو ٹھر گیا وہ نیچے کی طرف جائیگا۔ پہاڑ پر سے گرے تو تحت الثریٰ میں گرنے کے سوا ٹھر نا مشکل ہے پس یہ خطرہ کا مقام ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے سمجھنے کی توفیق دے۔ اور ہمارا قدم ٹھیرا ہوا قدم نہ ہو۔ بلکہ آگے کی طرف بڑھنے والا قدم ہو۔" الفضل ۲۹ جولائی ۱۹ ته)