خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 466

ہیں۔ مگر مسیح کے حواری بھی تو تھوڑے تھے ۔ ہمارے پاس مال تھوڑا ہے ۔ مگر ان کے پاس بھی مال تھوڑا تھا ۔اور یہی حال علم کا بھی تھا۔ پھر باوجود اس حالت کے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان سے زیادہ کمزور ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خواہ اس وقت اہل حق کی حالت کتنی کمزور ہوتی ۔ تاہم ان کے پاس بھی و بی سامان ہوتے تھے۔ جو حکومت وقت کے پاس ہوتے تھے یا عام لوگ ان کو آسانی سے فراہم کر سکتے تھے تعداد کی قلت ہوتی تھی۔ مگر سامان کی قلت نہ تھی۔ وہ ہی زمانہ ہے جس میں تعداد ہی کی قلت نہیں۔ سامانوں کی بھی قلت ہے۔ نئے علوم نے وہ وہ سامان پیدا کہتے ہیں کہ حکومت کی مدد کے بغیر وہ سامان جمع نہیں ہو سکتے ۔ آج کمزوروں کا مقابلہ واقعی زور آوروں سے ہے مسیح نے تو کہ دیا تھا کہ تو اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خرید لیکن آج اگر مکان بھی بیچ دیں۔ تو توپ نہیں مل مل سکتی ۔ دشمن کے پاس تلوار سے بڑھ کر بندوق اور توپ اور مختلف قسم کے سامان ہیں ۔ مگر ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر پہلے لوگ اپنے وقت کے سامان تیار کر سکتے تھے۔ ہم تیار بھی نہیں کر سکتے اس میں شبہ نہیں کہ ہمارا مقابلہ روحانی مقابلہ ہے مگر دشمن کو اپنے سامانوں پر گھمنڈ ہے ۔ وہ اپنی سامانوں کی بناء پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم سب دنیا سے اپنا مذہب منوائیں گے۔ ان کی طرف سے جو مذہبی آزادیاں دی جا رہی ہیں۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ عیسائیت بہتے وسیع القلب ہوگئی ہے۔ بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آخر یہ ہمارا ہی شکار ہیں پیس پادریوں کا تمام جوش و خروش اسی لیے ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو سامانوں سے آراستہ سمجھتے ہیں۔ اور ان کا جوش و خروش کلیلہ دمنہ کے چوہے کا سا ہے ۔ یہ ایک ہندی قصہ ہے جو پہلے فا میں ترجمہ کیا گیا اورپھرعربی میں ترجمہ ہوا اس کتاب میں کھا ہے۔ ایک شخص تھا۔ اس کی ایک زاہد نے جو جنگل میں رہتا تھا دعوت کی جب وہ کھانے کے لیے آیا تو ھانا ہے۔ ایک شخص اس کی ایک نا رکھا گیا۔ اور گفت گو ہو رہی تھی کہ زاہد گفتگو اور کھانے کے درمیان منہ اور ہاتھوں سے عجیب عجیب سے کہیں کرتا تھا ۔ اس شخص کو یہ اچھا نہ معلوم ہوا اس نے زاہد سے کہا کہ تم یہ کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں کتنا ہی یہ میں کتناہی اونچا کھانا رکھوں ایک چوہا ہے ۔ وہاں تک پہنچ جاتا ہے اور کھانا خراب کر دیا ہے ۔ اس شخص نے جب یہ سنا تو کہا کہ اس چوہے کے اچھلنے کی وجہ یں مجھے کیا کہ اس کے بل میں ماں ہوگا جس کے گھمنڈ پر وہ اچھلتا ہے۔ اس کے ہل کو کھودنا چاہتے۔ یہ ودنا چاہتے۔ یہ بل کھودا گیا۔ تو اس میں سے مال نکلا۔ جب مال وہاں سے نکال لیا گیا ۔ تو پھر وہ چوہا اتنا اونچا نہیں اچھیل سکتا تھا ۔ اس چوہے سے مراد ایسا مالدار آدمی ہے جو محض اپنے مال کی بنا پر گھمنڈ میں آجائے اورا اور اچھلنے لگے لیس پادری یہ کہتے ہیں کہ ہم تمام مذاہب کو کھا جائیں گے۔ ہمارے پاس صداقت کے دلائل ہیں ۔ یہ