خطبات محمود (جلد 6) — Page 462
۴۶۲ اور گنہگار ہوتا ہے ۔ گرمی کی شدت کے باعث جو روزہ جو روزہ چھوڑتا ہے اس کو یاد رکھنا چاہیے۔ کہ جہنم کی آگ کی گرمی اس سے بہت زیادہ تیز ہے جب لوگوں نے نبی کریم کے وقت میں جہاد سے بچنے کے لیے گرمی کا بہانہ تلاش کیا تو خدا نے فرمایا کہ قُل نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرَّا (التوبه : (٢) با سرگرمیاں اتی یہ گرمیاں اتنی گرم نہیں جتنی نار جہنم تیز گرم ہے۔ یہ دنیا کی گرمیاں اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ در مرد یہ پس میں اپنی جماعت کو خاص نصیحت کرتا ہوں اور عورتوں کو خصوصاً اور مردوں میں سے ان کو جو حفتر صاحب کے ان احکام کو دیکھتے ہیں جو آپ نے افراط کو توڑنے کے لیے دیتے ۔ لوگوں نے روزوں کی غرض کو ضائع کر دیا تھا۔ جب انھوں نے اس طرح روزے رکھنے شروع کر دیتے کہ جان نکل جاتے مگر روزہ نہ جائے تو روزہ چونکہ انسان کی ہلاکت کے لیے نہیں۔ بلکہ اس لیے ہے کہ لوگوں کی نجات کا موجب اور زندگی کا باعث ہو۔ اس لیے اس افراط کے خلاف حضرت اقدس نے فرمایا ہے جو کچھ فرمایا۔ اگر حضرت صاحب کا منشاہ ہوتا کہ یونسی عذر پر روزہ ترک کر دینا چاہتے ۔ تو آپ اس پر عمل بھی کرتے ۔ آپ نے ۴ ، سال کی عمر پائی۔ اخیر عمر کے دنوں میں بوجہ بیماریوں کی کثرت کے آپ کے روزوں میں کمی آئی۔ ورنہ آپ کے روزے نہیں جاتے تھے۔ اور آپ کی غذا اس قدر کم ہوتی تھی کہ دوسرا آدمی دن بھر اس پر گزارہ نہیں کر سکتا۔ حالانکہ آپ کی نظیم کا رہنشاہ ہوتا تو جتنا کام آپکو اکیلے کرنا پڑتا تھا اور اکیلے آپ کوساری دنیا کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، آپ روزے نہ رکھتے لیکن باوجود اس شدت کار اور اس کمزور صحت کے آپ روزے رکھتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ آپ کے روزے رہ نہ جائیں ۔ حکم معمولی نہیں، مگر افسوس ہے کہ افراط سے نکل کر کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے ہیں معمولی عذر پر روزہ ترک کر دیتے ہیں۔ خصوصاً عورتیں معمولی معمولی عذرات پر روزے چھوڑ دیتی ہیں۔ پھر جو شخص روزہ نہیں رکھتا اور لوگوں کے سامنے کھاتا پیتا ہے تو یہ زیادہ گہنگار ہے۔ کیونکہ اس کے اس عمل سے لوگوں کو ترک روزہ کی تحریک ہوتی ہے ۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو وہ چھپا تا ہے کہ پکڑا نہ جائے، لیکن جو روزہ ترک کرتا ہے اور دوسروں کے سامنے کھاتا پیتا ہے وہ دوسروں کو تحریک کرتا ہے کہ روزہ چھوڑ دیں ۔ ایسا آدمی شعائر اللہ کی ہنگ کرتا ہے پس ایسے گناہ جو دوسروں کو نظر آتے اور دوسروں کے لیے تحریک کا موجب ہوتے ہیں۔ زیادہ سزا کے مستوجب ہوتے ہیں۔ جو لوگ شریعیت کے احکام کو اس طرح ٹلاتے ہیں وہ گویا ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام ساری دنیا اور سب زمانوں کے لیے نہیں۔ اور یہ اسلام پر ایسا حملہ ہے جس کا گناہ بہت بڑا گناہ ہے۔ به زمانه روحانی ترقیات کا ہے اور روحانی ترقیات میں روزے ضروری ہیں۔ اس لیے ان کو مت چھوڑو۔ コン