خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 432

۴۳۲ ہوتا ہے جس میں تمام صفات کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہوں۔ مثلاً جنھیں لوگ خوبصورت کہتے یا سمجھتے ہیں وہ بے نظیر نہیں ہوتے اور ان کے تمام اعضاء بے مثل نہیں ہوتے ۔ بلکہ ان کے اعضاء میں ایک حد تک تناسب ہوتا ہے، لیکن جس شخص کے اعضاء میں تناسب نہ ہو ۔ اس کا کوئی عضو خواہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو۔ وہ حسین نہیں کہلا سکتا۔ اگر اس کے مقابلہ میں دوسرے اعضاء خوبصورت نہ ہوں ۔ مثلاً ایک شخص کی آنکھیں بہت خوبصورت ہوں۔ مگر ناک یا کان نہ ہوں ۔ یا ہوں تو خوبصورت نہ ہوں ۔ وہ کبھی حسین نہیں کہلاتے گا۔ بلکہ اس کی شکل بھیانک ہو گی ۔ یا اسی طرح ایک شخص کی ناک بہت خوبصورت ہو مگر آنکھیں اچھی نہ ہوں تو اس کو بھی خوبصورت نہیں کہہ سکتے۔ غرض حسن نام ہے ۔ اجمالی طور پر تمام اعضاء میں تناسب اور موزونیت کا ۔ اسی طرح مومن وہ ہے جس میں عمدہ صفات پائے جاتے ہوں۔ خواه بمرتبہ کمال نہ ہوں اور چاہے کمزوریاں بھی ہوں ۔ اور ہوتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے ۔ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ اور تمام اعلیٰ صفات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ مثلاً بنی نوع کی ہمدردی جس قدر عیسائیوں میں ہے ۔ دوسرے لوگ کم دکھاتے ہیں۔ پچھلے دنوں یہاں قادیان میں ایک انگریز آیا تھا ۔ اس کی ہندوستان میں آنے کی غرض محض یہ تھی کہ وہ کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرے ۔ علاج کرے ۔ اور تواب حاصل کرے ۔ وہ تلاش کرتا پھرتا تھا، لیکن اگر یہاں کے لوگوں کو موقع ملے تو ان کو گھن آتے۔ یہ روح مسلمانوں میں کم ہے۔ حالانکہ جس طرح خوبصورتی - آنکھ ۔ ناک کان میں تناسب کا نام ہے اسی طرح مومن وہی ہے جس کے سب عمل ٹھیک ہوں۔ ابھی معلوم ہوا ہے کہ وہ وباء جو پچھلی دفعہ ملک میں پھیلی تھی۔ اب پھر بڑھ رہی ہے ۔ اس کا رخ پنجاب کی طرف ہے ۔ ساتہ میں بھی اس کی آمد آمد تھی ، لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت اس کو اپنے فضل و رحم سے دور کر دیا تھا۔ اب بھی اللہ تعالے دور فرماتے۔ مگر یہ خدا کے عذاب ہیں۔ جب تک لوگ اسلام سے نفرت اور سچائی کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے حملہ کرتا رہے گا اور جب تک لوگ مخالفت میں بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مومنانہ جوش سے تمام بنی نوع کی ہمدردی میں مصروف رہنا چاہتے ۔ یا د رکھو اسلام ہر انسان کو جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ اور ہرگنہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اپنی جان ضائع کرے مگر بعض جگہ خدا کا ہی حکم ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو خطر سے میں ڈال دیں بعض لوگی خطرے سے بچنے کیلئے کہدیا کرتے ہیں کہ قرآن میں آتا ہے۔ لا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَة كوسباق لے سورة البقرہ : ۱۹۶ یہ