خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 425

۴۲۵ ہے ۔ ہاں اگر اپنے بھائی کے علاج میں لگ جاتا ہے اور اس کے نقائص دور کرنے کی کوشش کرتا ہے کی تو یہ فرق ہے کیونکہ دوسرا صرف بیماری دیکھتا ہے۔ اور اسکا علاج نہیں کرتا مگر تم اپنے بھائی کی بیماری دیکھکر اس کا علاج بھی کرتے ہو مگر میں دیکھتا ہوں بہت سے لوگوں میں عیب لگانے کی تو عادت ہے ، لیکن عیب دور کرنے کی نہیں۔ اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں سکتا کہ آپس کے تعلقات منقطع ہو جاتے ہیں اور ایک کو دوسرے سے کوئی محبت نہیں رہتی۔ انسانی فطرت کو اکسانے اور اپنی طرف مائل کرنے والی چیز محبت اور پیار ہے۔ جب کوئی انسان اپنے اندر محبت کا چشمہ بہاتا ہے تو اس کے آس پاس جو لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی فطر میں خواہ سینکڑوں من مٹی کے اندر دبی ہوں ۔ ابھر آتی ہے ۔ میں نے ایک رویا دیکھا۔ جو کئی دفعہ سنایا ہے۔ میں نے دیکھا ایک سیٹچو ہے جس کے اوپر ایک بچہ ہے۔ جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہوتے ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو بلا رہا ہے ۔ اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے۔ اور اس کے کپڑوں کے رنگ ایسے عجیب و غریب ہیں جوئیں نے کبھی نہیں دیکھے۔ اس نے چو ترے پر سے اتر کر اپنے پر پھیلا دیئے۔ اور نہایت محبت سے بیجہ کی طرف جھکی ۔ وہ بچہ بھی اس کی طرف اس طرح پکا جس طرح ماں سے محبت کرانے کیلئے لپکا کرتا ہے۔ اور اس نے بچہ کو ماں کی طرح ہی پایہ کرنا شروع کر دیا ۔ اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے ۔ Love creates Love کہ محبت محبت پیدا کرتی ہے پیدا کرتی ہے ۔ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ عیسی ہے اور وہ عورت مریم۔ تو محبت مردہ کو زندہ دشمن کو دوست مخالف کو موافق بنا دیتی ہے۔ ذرا غور تو کرو وہ کیا چیز ہوتی ہے جس سے نبیوں کے مخالف ان کے پاس کھینچ کر چلے آتے ہیں وہی جس کے متعلق خدا تعالیٰ رسول کریم کو فرماتا ہے ۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء : ۴) کیا تو اپنی جان کو ان لوگوں کے لیے ہلاک کر لیگا۔ تو انبیا۔ لوگوں کے گناہوں اور کمزوریوں کو دیکھ کر ان سے نفرت نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ ندرت اور مضبوط کو دیکھ کر اس پر ہم نہیں کیا جا تا بلکہ بیمار اور زور پریم کیا جاتا ہے۔ پس اگر تم اپنے کمزور او عیب دار بھائی سے ہمدردی نہیں کرتے۔ اس کو مدد نہیں دیتے۔ تو کسی ! تو کسی اچھے اور تندرست سے ہمدردی کرنا کچھ حقیقت نہیں رکھتا ۔ اصل ہمدردی اور امداد تو وہی ہے جو کمزور کو دی جائے ۔ ایک ایسا شخص جس کو کوئی احتیاج نہیں ۔ اس کو اگر کہا جائے کہ ہمارے لائق کوئی خدمت ہو۔ تو قبلا ہیے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ ہاں بڑی بات یہ ہے۔ جو محتاج ہو ۔ اس کی امداد کی جائے ۔ توکمزور بھائی کیساتھ