خطبات محمود (جلد 6) — Page 415
۴۱۵ دیکھو گے کہ اگر کس کو کہو وسطی طریق اختیار کرنا چاہیئے۔ تو فوراً کہے گا ۔ خَيْرُ الأُمُورِ أَوسَطهَا ، لیکن جب تفصیل پوچھی جائے تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ لوگوں کو دیکھو گے کہ حکمت کے حملے ان کی زبانوں پر یل پوچھی توبغلیں جھا جاری ہونگے ۔ کوئی سی بات ہو۔ وہ فوراً ایک جملہ بولیں گے۔ مگر جب ان سے تشریح پوچھی جاتی ہے تو وہ کچھ نہیں بتا سکتے ۔ اسلامی شریعت کے بھی وسطی طریق کیے ارشاد کے متعلق اگر پوچھا جائے کہ حکام کے متعلق کیا حقوق ہیں رشتہ داروں کے متعلق کیا۔ حاکم درعایا سے متعلق کیا ۔ بیوی بچوں سے متعلق کیا۔ اتنا دوں اور شاگردوں کے متعلق کیا۔ تو کچھ نہیں بتا سکیں گے ۔ اگر لوگ حکمت کے جملے زبان سے نکالتے وقت ان پر غور کریں۔ اور ان کی تفصیل تحریں۔ اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے سب پہلوؤں پر لے جائیں ۔ تو ان کے لیے بہت مفید ہو سکتا ہے ۔ ان کے علوم میں ترقی ہو۔ اور عملی زندگی پر اس کا بہت اثر پڑے ۔ بعض لوگ جو حکمت کے فقرے بولتے ہیں ۔ وہ ان کی حقیقت چٹکلوں سے زیادہ نہیں سمجھتے ۔ ان سے محض ایک زبان کی لذت لیتے ہیں۔ فائدہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب لوگ اسکی تفصیل پر غور کریں۔ جن لوگوں کی زبان پر فقرات حکمت اور ضرب المثلیں ہوتی ہیں۔ مگر ان کا عمل اس کے خلاف ہوتا ہے ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ایک شخص سخت بیمار ہو۔ اس کے پاس دوائی ہو۔ اور یا ایک سخت بھوکا ہو۔ اور اس کے پاس کھانا ہو ۔ مگر وہ اس کو استعمال نہ کرے ۔ صرف اس کی تعریف شروع کردے کہ یہ کھانا بہت عمدہ ہے اور بہت لذیذ اور بہت مقوی ہے ۔ کھانے اور دوا کا عمدہ ہونا اس کے لیے کیا خاک مفید ہو سکتا ہے جب وہ اس کو استعمال نہیں کرتا ۔ اسی طرح وہ لوگ جو ضرب المثلیں بولتے ہیں۔ جو خواہ آسمانی اور خدائی کتابوں کے فقرات ہوں۔ خواہ عقلمند اور دانا لوگوں کے پر حکمت کلمات - مگر ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ یہ تمہید ہے۔ ایک مضمون کے لیے جو خُدا نے چاہا تو آئیندہ اس کے متعلق تقریریں اور تفصیلی باتیں ہوں گی جن پرعمل کرنا بہت مفید ہو گا۔ جب تک کہ کسی بات کی تفصیل معلوم نہ ہو۔ نہ کامل علم ہوتا ہے۔ نہ اس پر عمل ہی ہوتا ہے اور نہ اس سے فوائد ہی خاطر خواہ مترتب ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اس کے احکام کو سمجھیں اور اس کی حکمتوں سے واقف ہو کر ہمارے اعمال اسکے منشاء کے مطابق ہو جائیں جن سے بہترین نتائج رونما ہو کر ہمیں خدا کے اور قریب کردیں ۔ ( الفضل ۱۲ را پریل شاه )