خطبات محمود (جلد 6) — Page 387
٣٨٧ 72 دُعاؤں کے دن فرموده 4 فروری ته ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا کہ ایک ضروری ام کے متعلق آئندہ کچھ بیان کروں گا، لیکن اس دفعہ پھر کچھ دیر ہو گئی۔ کیونکہ ایک اہم کام کے مشورہ کے لیے دیر تک بیٹھنا پڑا۔ اس لیے آج بھی میں خطیہ زیادہ دیر تک نہیں بیان کر سکتا ۔ تاہم میں اس دفعہ اپنی جماعت کے لوگوں کو خاص طور پر ایک بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف خدا کے مامورین اور انبیاء اور ان کے خلفاء اور اولیاء توجہ دلاتے چلے آتے ہیں۔ اور وہ بات دُعا ہے ۔ اس زمانہ میں جیسا کہ میں نے پچھلے خطبوں میں بتایا کہ تھا۔ خطر ناک تغیرات ہو رہے ہیں مسیح موعود کے متعلق جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے قَالَ الإِنْسَانُ مَا لَهَا (الزلزال (۴) کہ اس وقت انسان کے گا کہ ہوگیا گیا۔ وہی آج حال ہے۔ پہلے بھی دنیا پر صیبتیں پڑتی تھیں۔ اور جب مصیبت آتی ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مصیبت آتی ہے۔ قحط دنیا آتے تو لوگ کہتے تھے کہ ایک مصیبت ہے و با پڑتی تو وہ اس کو بھی مصیبت سمجھتے کے اس زمانہ میں اس طرح ابتلاؤں کے دروازے کھلے ہیں کہ انسان کہہ نہیں سکتا کہ کیا مصیبت ہے جس کو طرح انعامات بے شمار ہیں ۔ اسی طرح آجکل مصائب بھی بے شمار ہیں۔ اور یہ بتانا مشکل ہے کہ دنیا کن کن عذابوں میں گھری ہوتی ہے ۔ ۔ جو لوگ دنیا کے اخبار پڑھتے ہیں اور حالات سے واقف ہیں وہ بھی نہیں بتا سکتے کہ کیا تغیرات ہونے والے ہیں۔ اگر کوئی بتانے کی کوشش کرے بھی ۔ تو اس کی بات معقول نہیں ہوگی۔ بلکہ اونگی بونگی بات ہوگی۔ پس یہ وہی نقشہ ہے۔ جو سیع موعود کے زمانہ کا قرآن کریم میں بتایا گیا ہے۔ کہ اس وقت انسان کہے گا ۔ اب کیا ہو گیا ۔ ان ابتلاؤں میں جن میں دنیا مبتلا ہے ۔ بہت سے ایسے ہیں، جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔