خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 375

۳۷۵ هشت اس وقت کوشش کی جارہی تھی کہ حضرت صاحب کے دعوای کو گھٹایا جائے ۔ اگر چہ ہم نے حضرت صاحب سے آپ کے دعوئی کے متعلق خوب کہنا ہوا تھا۔ مگر اندیشہ ہوا کہ ممکن ہے۔ ہم غلطی پر ہوں۔ اس ہم پر وقت میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا۔ اور مجھے حضرت صاحب کی نبوت پر یقین دلایا گیا۔ تمیسری دفعہ آج مجھے خدا تعالیٰ کی رویت ہوتی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر رہا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو زانو بیٹھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا جماعت کو چاہیے کہ جد" سے کام لیں" ہنزل" سے کام نہ لیں "جد" کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ہزل " اسی حالت میں معاً میرے دل میں آیا تھا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کو چاہیئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور محض واہ واہ کے لیے کوشش نہ کرے ہمیں چاہیے کہ ہر ایک شخص نیک نیتی سے کام لے اور نمود و نمائیش کے خیال کو بالکل دل سے نکال رہے۔ یہی تیس ہزار جو ہم لندن میں مسجد پر لگانا چاہتے ہیں اگر نیت نیک نہ ہو۔ تو کوئی مثمر بثمرات نیک فعل نہیں کرینگے۔ اور اس سے بہتر ہو کہ وہ روپیہ جو ہم وہاں مسجد کی تعمیر میں لگائیں اس سے چین و جاپان وغیرہ ممالک میں تبلیغ پر لگا دیں پس جب تک نیت نیک نہ ہو اتنے بڑے کام پر جرات نہیں کی جاسکتی ۔ اگر نیت میں فتور نہ ہو تو ہی مسجد قطب بن سکتی ہے۔ اور لاکھوں فوائد ہیں۔ اور اگر نیت نیک نہ ہو۔ تو یہ ایک طوق ثابت ہو گی ۔ پس تمام احباب کو چاہتے کہ اپنی اپنی نیتوں کو صاف کریں اور دُعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ اس کام کو ضائع نہ کرے ، بلکہ اس کے نیک ثمرات پیدا ہوں اور دعا کریں کہ خدایا ی مسجد تیری عبادت کے لیے مقبول مقام ہو۔ اور دنیا کا مرجع ہو اور لوگوں میں اشاعت اسلام اس کے ذریعہ ہو۔ اور یہ بہاری کوشش ضائع نہ ہو۔ اور محض اینٹ گارا ہی ثابت نہ ہو۔ اسے خدا ہماری نیتوں کو درست کر۔ اور ہمیں ہمت دے کہ ہم تیرے ہی لیے اس کام کو انجام دیں۔ اور اسلام کے لیے اس کے اعلی درجہ کے ثمرات ہوں اور ہم دیکھ لیں کہ اسلام دنیا میں پھیل رہا ہے۔ آمین ثم آمین : الفضل ۲۲ جنوری ۱۹ته )