خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 360

۳۶۰ وعظ نہیں سن سکتے تھے۔ مگر باوجود اس کے جب اسلام آیا ۔ تو اس کو دونوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ او رنا تھا۔ اول تو یہ کہ کی کی بات کو نہ مانا اس حالت و دورکرنا تھا۔ دوسرے جن متمدن ممال میں غلامی اور رعایا کا ایک ہی مفہوم سمجھا جاتا تھا۔ اس کو دور کر کے حریت عمل و فکر کو قائم کرنا تھا۔ چنانچہ اسلام نے ایک وسطی طریق اختیار کیا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ متمدن دنیا کو یہاں تک حقوق دیتے گئے کہ وہاں کے باشندے اپنے ہم مذہبوں کا ساتھ چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ مل گئے۔ افراد کو ان کے حقوق اتنے دیتے ان گئے۔ کہ وہ زبردست ہو گئے۔ لکھا ہے کہ ایک علاقہ پر سلمان متصرف ہو گئے مگر وہاں کے لوگوں کو مخالفوں کی طرف سے کچھ اذیت پہنچی جس کا مسلمان تدارک نہ کر سکے ۔ اس سے متاثر ہو کر مسلمان گورنر نے وہاں کا مالیہ اور جزیہ وغیرہ واپس کر دیا۔ کہ یہ تو ہم اس لیے لیتے ہیں کہ تمہاری حفاظت کریں۔ جب ہم تمہاری حفاظ حفاظت نہ کر سکے۔ تو ہم ان تو ہم ان رقوم کے بھی حقدار نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے عیسائیوں کا مقابلہ کیا۔ کیونکہ انہوں نے حریت کو پایا۔ اور سمجھ لیاکہ ہم غلام نہیں۔ اور نہ نہیں غلام سمجھا جاتا ہے ساتھ ہی وہ حریت جو حد سے بڑھی ہوئی تھی اس کو کم کیا ۔ ایک طرف تو حریت فکر قائم کی۔ اور ایک مسلم کے لیے فرض رکھا کہ وہ اپنے فکر کو چلائے۔ جہاں تک کہ اخلاق اور مذہب اجازت دیں ۔ مذہب کے پر کھنے کے لیے خوب آزادی سے کام لے، لیکن جب پرکھ کر معلوم کرے کہ فلاں مذہب حق ہے تو پھر اس کی پابندی اختیار کرے فرمایا: أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ - شخص حق رکھتا ہے کہ وہ ظاہر وہ ظاہر کرے۔ جو اس کے خیالات ہیں، لیکن جب اس کو معلوم ہو جاتے کہ یہ حکم خدا اور خدا کے رسول اور ان کے لو قائم مقاموں کی طرف سے ہے تو پھر کامل اطاعت کرے ۔ اگر کوئی جھگڑے کی بات ہو تو اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کرائے۔ یہ درمیانی طریقی تھا ۔ وہ لوگ جو آزاد مطلق تھے۔ ان کو مقید کیا اور ان کو آزادی دی۔ جو بالکل مقید تھے۔ جب تک اسلام کے اس پیش کئے ہوئے طریق پر قدم نہ مارا جائے، ترقی نہیں مل سکتی ۔ کیونکہ جب لوگ غلام ہونگے اور حریت فکر اور حریت عمل سے بالکل محروم ہونگے، اور سیم وعادات کے بندے ہونگے۔ اور جو کچھ انہوں نے باپ دادا سے سن رکھا ہو گا ۔ اسی پر عمل کرنے کو موجب نجات و فلاح سمجھتے رہیں گے۔ وہ کچھ بھی نہیں حاصل کر سکیں گے، بلکہ مٹ جائیں گئے۔ اور اسی قیمت سے مسلمان کرنے شروع ہو گئے ۔ اور ان کی اُمیدیں نامرادی سے مبدل ہو گئیں ، جب وہ اسی خیال کے پابند ہو گئے۔ لے کتاب الخراج الامام ابو یوسف بحوالہ پر بیچنگ آف اسلام مصنفہ ٹامس آرنلڈ