خطبات محمود (جلد 6) — Page 36
8 اعمال کی تقسیم فرموده ۲۲ فروری شاشته ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- میں نے پچھلے جمعہ کے خطبے میں ایمان کی تکمیل کے لیے اس بات کو بیان کیا تھا کہ تفصیل ایمان جبتک انسان کو مد نظر نہ ہو۔ اور اس کے مطابق وہ اپنے عقائد ۲- اپنے اقوال ۳۔ اپنے اعمال کو درست نہ کرے اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہوتا اور میں نے بتایا تھا کہ میرا منشا ہے کہ ایک حد تک اختصار کے ساتھ نمونہ اور مثال کے طور پر اس مضمون کے متعلق بعض تفاصیل مختلف خطبوں میں سناؤں ۔ تاکہ اس سے دوسری باتوں کے متعلق بھی آپ لوگ نتیجہ کل ہیں اور ان لوگوں کو ایمان کے مکمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو جو واقف نہیں اور وہ اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ کامیابی اور نا کامی کا سوال علیحدہ ہے۔ مگر جب تک کسی کام کے کرنے کا طریق اور طرز ہی معلوم نہ ہو۔ انسان اس کے متعلق کوشش بھی نہیں کر سکتا۔ کامیابی اور نا کامی اس بات پر خصر ہوتی ہے کہ کتنی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی کی اُمید اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ صحیح ذرائع اور درست طریق سے کوشش کی جاتے ہیں صحیح ذرائع پر مطلع کرنے کے لیے میرا منشار ہے کہ ان تین حصوں کی تفصیل بیان کروں جن کا ابھی ذکر ہو چکا ہے اور ان میں سب سے پہلے اعمال کو لیتا ہوں ۔ لیکن اعمال کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے یہ نہایت ضروری ہے کہ دکھیں کہ اعمال کتنی اقسام کے ہوتے ہیں کیونکہ انسان کی عادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ کو ایسا ہی بنایا ہے کہ وہ متفرق اور پراگندہ اشیا کو ایسی خوبی اور عمدگی سے آسانی کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا تھا جیسا کہ منقسم اور مرتب شدہ کو جنب اشیا ۔ ایک انتظام اور ترتیب کے ماتحت سامنے لائی جائیں تو اس وقت انسان نہایت آسانی کے ساتھ ان کو سمجھتا اور اپنے ذہن میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اور جب محفوظ کر لیتا ہے تو ان سے فائدہ اُٹھانا بھی اس کے لیے یہ نسبت پراگندہ اور منتشر اشیاء کے نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے مختلف علوم کے جو ماہر ہیں وہ ان علوم کو مختلف ابواب میں تقسیم کرکے پیش کیا کرتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹری ایک شه