خطبات محمود (جلد 6) — Page 358
67 شریعت کے احکام بے چون وچرا مانو ۱۹۱۹ فرموده وار دسمبر ۹ ته) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریفہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الترسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ، فَإِنْ تَنَازَعُتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرُ ذَلِكَ خَيْرٌ وَ احْسَنُ تأويلاً۔ (النساء : (۶۰) تلاوت فرمائی اور فرمایا :- اسلام ایک ایسے زمانہ میں دنیا میں آیا ہے۔ جبکہ حریت خواہ فکر کی ہو۔ خواہ عمل کی۔ بالکل مٹی ہوئی تھی متمدن دنیا میں حریت فکر و حریت عمل بالکل مفقود تھی ۔ دو بڑی حکومتیں تھیں ۔ ایران جو ایشیا کے بڑے حصہ پر تصرف رکھتی تھی ۔ اور دوسری یونانی حکومت جسے رومی سلطنت کہتے ہیں۔ اس کا ایشیاء کے بعض حصص پر اور افریقہ کے متمدن حصہ پر اور تمام یورپ پر اثر تھا ان دونوں حکومتوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دونوں باتیں نہ تھیں۔ نہ تو وہاں لوگوں کے دماغوں کو آزادی حاصل تھی۔ کہ وہ کسی امر کے متعلق کچھ سوچ کر اور کوئی رائے قائم کر سکیں ۔ اور نہ یہ آزادی تھی کہ کسی قسم کی حرکت کر سکیں۔ حکومت کا جبر اتنا بڑھا ہوا تھا کہ رعایا اور حکام کے تعلقات ایسے تھے کہ رعایا جانور ہے۔ اور حکام ان کے مالک وہ جس قسم کا رعایا سے سلوک کریں ۔ وہ بجا اور درست ہے۔ چنانچہ حکام جو چاہتے تھے۔ اور جس طرح چاہتے تھے۔ رعایا سے کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں غیر متمدن علاقوں کی حالت حریت کے لحاظ سے حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ اس کی مثال عرب میں ملتی ہے۔ عرب میں اس وقت کوئی تہذیب نہ تھی کوئی تمدن نہ تھا۔ کوئی قانون دور قاعدہ نہ تھا۔ وہاں آزادی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو چاہتے کرتے تھے۔ کوئی پرسان اور کوئی مانع نہ تھا۔ انہوں نے آزادی کے معنے یہ سمجھ رکھے تھے کہ کسی امر میں کسی کی پرواہ نہ کی جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان میں بعض قوانین تھے۔ لیکن وہ اس قدر وسیع تھے کہ جس کی حد نہیں ۔ مثلاً ان میں یہ قانون تھا کہ کوئی