خطبات محمود (جلد 6) — Page 350
۳۵۰ بلکہ شریعت کی تصدیقی نے اس کو حکم ربی بنا دیا۔ اس لیے کیا بلحاظ انسان بننے کے اور کیا بلحاظ مومن ہونے کے اکرام ضیف ضروری چیز ہے۔ ابھی تھوڑے دنوں میں اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ تو حضرت مسیح موعود کی جاری کی ہوئی سنت کے با تحت قادیان میں مہمان آئیں گے۔ اور ان میں جماعت کے بھی لوگ ہوں گے اور غیر بھی ہم اللہ کے فضل سے ہر سال مہمانوں کی تعداد کو روزافزوں دیکھتے ہیں۔ اس لیے اس دفعہ بھی انشاء اللہ پہلے سے زیادہ تعداد میں مہمان ہونگے۔ ان کی مہمان نوازی یہاں کے تمام لوگوں کے ذمہ ہوگی کیونکہ وہ چند آدمی جو سنگر کے منتظم ہیں۔ اس کام کو نہیں کر سکتے ۔ اس لیے میں قادیان کے احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ کام بڑا ہے ۔ اور ابھی سے اس کا انتظام ہونا چاہیتے ۔ اگر ابھی سے آپ لوگوں نے اپنے آپ کو کام کے لیے پیش نہ کیا۔ تو بعد میں منتظموں کو موقع نکالنا مشکل ہوگا ۔ اس لیے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ احباب اپنے آپ کو پیش کریں۔ تاجر تو معذور ہیں کیونکہ وہی ان کے کام کے دن ہوتے ہیں۔ اور اور لوگ بھی جو اس قسم کے کاموں پر متعین ہوتے ہیں۔ جن سے وہ علیحدہ نہیں ہو سکتے ۔ باقی دوست اپنے کام چھوڑ کر بھی اپنے آپ کو مہمانوں کی خدمت کے لیے پیش کریں ۔ یہ لوگ جو آئیں گے ۔ وہ صرف مہمان ہی نہیں ۔ شعائر اللہ میں داخل ہیں ۔ اور شعائر اللہ کی حرمت و عزت مومن کا فرض ہے ۔ ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا اور اس وقت کو دیکھنے والے بہت لوگ موجود ہیں۔ جب قادیان کے چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھے ۔ حضرت اقدس کے وقت میں جلسہ سالانہ پر اتنے آدمی بھی نہیں آتے تھے ۔ جتنے کہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہیں۔ حضرت صاحب نے اس وقت سے بہت عرصہ پہلے خدا سے خبر پا کر اطلاع دی۔ يأتون من كل فج عميق وياتيك من كل فج عمیق یہ تیرے پاس دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور دُور دُور سے پہنچیں گے حتی کہ جن راستوں پر سے آئیں گے ان پر گڑھے پڑ جائیں گے ہو خدا نے یہ نظارہ میں اپنی آنکھوں سے دکھلایا۔ اگر پہلا نہیں دیکھا تو اب بھی یہ نظارہ نظر آتا ہے ۔ اس لیے قادیان میں ہر ایک آنیوالا اس پیشگوئی کو پورا کر نیوالاہوتا ہے۔ اسی لیے وہ ایک نشان ہوتا ہے اور شعائر اللہ میں داخل ہوتا ہے اسلئے کیا بلحاظ مہمان ہونے کے اور کیا لحاظ نشانی اعلی ہونے کے یہاں کی جماعت کو ان کی مہمان نوازی کی فکر کرنی چاہیئے ۔ له تذكره مره