خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 345

۳۴۵ ان کا ہم پر کو اہم پر کوئی حق نہیں۔ اسی طرح شہر کے لوگ اور پھر ایک قوم کے لوگ اپنی قوم کے ایک فرد کے بچوں کے متعلق کہ سکتے ہیں کہ ان کا باپ اپنی زندگی میں اپنے حقوق ہم سے لیتا رہا۔ ہم ان بچوں کی نگہداشت نہیں سے کر سکتے ۔ اسی طرح ایک حکومت کر سکتی ہے۔ یا اگر کوئی شخص پاگل ہو جائے ۔ تو اس کی او تو اس کی اولاد کی پرورش سے تواس اس کے رشتہ دار اس کے قریبی اور اہلِ محلہ اور اہل شہر اور حکومت دست بردار ہو جائیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف حقوق ہی دُنیا کی ترقی کا موجب نہیں ۔ بلکہ حقوق کے سوا بھی کوئی چیز ہے۔ اور وہ قربانی ہے اور محبت ہے۔ اگر ایک انسان ہمیشہ حق پر ہی بحث کرتا ہے۔ تو اگر وہ بیمار ہو جائے یا مر جاتے اور اس کے رشتہ دار اس کی مدد سے انکار کر دیں۔ تو ان کو کیا کہا جا سکتا ہے۔ پس یہ طریق شریعت نے وسیع کیا ہے کہ تم حقوق پر ہی بحث نہ کیا کرو، بلکہ حقوق کے سوار محبت و اخلاص کو بڑھاؤ اور قربانیاں کرو۔ ہمارے لیے جس وجود کو اُسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ اس پر کیا گیا سختیاں ہوئیں ، لیکن جب وقت آیا ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ اور ان تمام تکالیف کو بھلا دیا۔ جو مکہ والوں کی طرف سے آپ کو پہنچی تھیں۔ ایک وقت میں ان کی شرارت کی وجہ سے ان کو سزا بھی دی۔ یہ غلط ہے۔ کہ جو بعض لوگ شریر کو اس وقت چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ وہ شرارت کر رہا ہوتا ہے۔ اگر چہ اس حالت میں بعض اوقات وہ معانی کی بھی درخواست کرتا ہے۔ لیکن وہ خفیہ خفیہ جڑیں کھود رہا ہو۔ پس وہ معانی اس کی معافی نہیں۔ نہ اس وقت اس کو چھوڑنا چاہتے۔ بان حبس وقت معلوم ہو جاتے کہ اب یہ شرارت نہیں کرینگے ۔ اور اس وقت ان کو سزا دینے میں انکی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ تو پھر معاف ہی کرنا چاہیے ۔ اور ایسی حالت میں ہر شریف بلکہ ہر ایک مسلمان کا یہی فرض ہے که معافی دید ہے۔ اور ان کے قصور سے چشم پوشی کرے، لیکن اگر ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے معاف کرو۔ مگر اس کے افعال اس قسم کے ہیں۔ جن سے وہ اسلام کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ تو قطعاً وہ معانی کا مستحق نہیں۔ پس یاد رکھو عضور رحم - اخوت اسلامی اور محبت یہ وہ چیزیں ہیں جو اساس اسلام ہیں۔ جو ان کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ وہ اسلام سے منہ پھیرتا ہے ۔ پس چاہتے کہ آپس میں محبت و پیایہ ہو۔ اسلام تو کہتا ہے کہ تم غیروں سے بھی محبت کرو مگر چونکہ آپس میں ہی محبت کی کمی ہے ۔ اس لیے۔ ۔ پہلے گھر سے شروع کرو تم میں ہیں جو چشم پوشی کرتے ہیں۔ مگر بے موقع اور جہاں نہیں چاہتے۔ مثلا اگر کوئی شخص اس قسم کی باتیں کرتا ہے جن سے جماعت ٹوٹتی ہے۔ تو سن لیتے ہیں اور چشم پوشی کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص ان کی ذات کے خلاف کیے تو نہیں سن سکتے۔ تو اس کا نام چشم پوشی نہیں۔ یہ تو بد دیانتی ہے۔ قرآن کریم ایک موقع پر کہتا ہے کہ مزا دو۔ اگر اس سزا کے وقت میں کسی کے دل میں نرمی یا رحم پیدا ہو تو وہ مومن نہیں پس اگر کوئی شخص جماعت کو اپنی شرارت سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ تو اس کو سزا دو۔ اور اپنے