خطبات محمود (جلد 6) — Page 336
٣٣٦ ہو گی۔ پس چاہیئے کہ کسی کے لیے دین کے موقع پر دنیا روک نہ ہو۔ آج تو لوگوں کی یہ حالت ہے کہ ذرا ذرا یسی بات پر نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جنگ کے موقع پر بھی یہ بات نہ تھی۔ وہاں تو جنگ میں جاتے وقت اگر کوئی عذر کرتے کہ ہمارا گھر بے پناہ ہے تو مسموع نہ تھا یہ لیکن یہاں ایک شخص عشاء کی نماز میں نہیں آتا۔ پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ بیوی اکیلی ہے اور ڈرتی ملتا کہ ہے۔ نماز میں کیوں نہ آئے۔ دوکان کے بند ہونے سے گاہک واپس چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسری باتوں میں سستی ہے۔ اور بہت تھوڑے ہیں۔ جو دین کے کام کی اہمیت کو خیال میں لاتے ہیں ، چاہتے یہ کہ ہر جگہ دین مقدم ہو جب تک یہ حالت نہ ہو ۔ حالت خطر ناک ہے ۔ اس لیے میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر وہ خدا تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اور احمدیت کا پھیل چکھنا چاہتے ہیں۔ تو دین کو دنیا پر مقدم کریں۔ اور دنیا کو دین کے ماتحت کر دیں۔ اور اگر یہ نہیں کرینگے۔ تو ان کے احمدیت اور اسلام کے دعوے فضول ہونگے۔ پس جب تک اسلام اور احمدیت کا حقیقی ادب نہ کیا گیا ۔ اس وقت تک یہ سمجھنا کہ ہم احمدی ہیں ، تمام فضول خواہشیں ہونگی۔ کیونکہ جب تک عمل نہیں کیا جائیگا۔ کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔ 119 الفضل ۲۲ نومبر ۱۹ته ) یہ له الاحزاب : ۱۴