خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 328

۳۲۸ لوگوں کے ذکر میں جنہوں۔ ے ذکر میںجنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علہ علم کو مانا۔ فرماتا ہے وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِاحْسَانِ (التوبه (۱) کہ ان صحابہ کرام کی جو پیروی نیکی کے ساتھ کرینگے۔ اس پر بھی اللہ تعالے کے احسان ہو نگے : که اور ان کو بھی رضائے الہی حاصل ہوگی۔ یہ کافی تھا کہ کہدیا جاتا کہ ان احکام کی پیروی کریں جن کی صحابہ نے کی ۔ لیکن خدا کہتا ہے ۔ ان لوگوں کی پیروی کرنے والے پر یہ انعام ہونگے ۔ ان لوگوں کی مشکلات کا خیال کر کے ان کو ایک خاص درجہ دے دیا کہ جو ان کی اتباع کریگا۔ اس پر احسان ہوگا ۔ حالانکہ اتباع ان کی نہیں۔ بلکہ قرآن کریم کی ہے اور ان کو بھی جو درجہ حاصل ہوا ہے۔ وہ اپنی احکام کی اتباع سے مال ہوا ہے جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ان لوگوں کی اتباع کریں گے ۔ اللہ تعالے ان پر اپنے خاص افضال نازل کریگا۔ سورۃ فاتحہ میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا گیا ہے فرمایا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - اس میں یہ نہیں بتایا کہ ہمیں اس صراط پر چلا جو نبیوں کی ہے ں کی ہے کہ فرمایا کہ اس راہ پر چلا جو منعم علیہم کی ہے۔ پس اس کی وجہ ان لوگوں کی وہ مشکلات ہیں جو وہ اُٹھا یں جو وہ اُٹھا کر دو سر کوی کے لیے راستہ صاف کر دیتے ہیں ۔ اس سے ان کی فضیلت کا پتہ لگتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔ وہ خدا کا بھی شکرگزار نہیں ہو سکتا یہ وجہ یہ ہے ۔ انسانوں کی شکر گزاری تھوڑی ہوتی ہے۔ جب ایک شخص تھوڑا کام نہ کر کی ایک سکے ۔ تو وہ زیادہ کب کر یادہ کب کر سکتا ہے۔ پس اسی قانون کے ماتحت وہ لوگ جو ابتداء میں انبیاء کو یں انبیاء کو مانتے ہیں دنیا کے محسن ہوتے ہیں۔ ہیں۔ ا اس لیے ان کی اتباع ان محسنوں کا شکریہ ہوتا ہے ۔ ۔ وہ وہ لوگ خطرناک مخالفتوں اور دشمنیوں کو سر پر اٹھاتے ہیں۔ کو سر پر اٹھاتے ہیں۔ اور محض خدا کے لیے حق کو قبول کرتے ہیں، لیکن اگر وہ ان مشکلات ت اور تکالیف کو نہ اُٹھاتے جو ابتدائی زمانہ میں پیش آتی ہیں۔ تو ان کمزوروں کو حق کے قبول کرنے کی کیسے توفیق ملتی ۔ جولوگوں کے خوف اور ڈر کی وجہ سے صداقت کو قبول کرنے کی جرات نہیں کرتے، لیکن جب کچھ لوگ حق کو قبول کر کے تکلیف اور مصائب کو برداشت کرتے ہیں ، طرح طرح سے ستاتے جاتے ہیں قسم قسم کے دکھ دیتے جاتے ہیں ۔ مگر مخالف ان کو حق کے ترک کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بلکہ نا کام اور نامرد ہو جاتے ہیں۔ تو کمزور دل لوگوں کو بھی یقین ہو جاتا ہے کہ جیسا مخالف ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے ایسی طرح ہمارا بھی کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکے گا۔ اس طرح وہ بھی حق کو قبول کر لیتے ہیں۔ لے مجمع بحار الانوار جلد ۲ باب السین