خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 322

۳۴۴ نیچے ہی ہوگا، لیکن اگر مسیح موعود کے مقابلہ میں ایک بات کا بھی دعوی کرے جس سے مسیح موعود کی کسی بات کا رد ہوتا ہو۔ تو یہ غلط ہے۔ اور ان کی یہ بات کہ مسیح موعود پر فہم قرآن ختم نہیں ہوا۔ ان کے اخبار میں بھی شائع ہو چکی ہے جس کے معنے انہوں نے یہ لیے ہیں کہ مسیح موعود کے بیان کردہ مسائل کے مقابلہ میں ہیں مسائل ملے ہیں۔ اور مسیح موعود کے بیان کہتے ہوتے غلط ہیں ۔ یا د رکھنا چاہتے کہ مسیح موعود کے مسائل میں زیادتی ہو سکتی ہے۔ مثلاً جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ حضرت مسیح سومسا موعود نے سو مسائل بیان کئے۔ آپ کا ایک غلام ایک اور بیان کر د سے جس سے ان کی تعداد ایک سو سے ایک سو ایک ہو جاتے، لیکن رد کر دینے میں وہ بات نہیں ۔ یہ مسیح موعود کی تکذیب ہے۔ اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے انھوں نے کہ دیا کہ سیح موعود پر فہم قرآن ختم نہیں ۔ اور اس کے یہ معنے لیے کہ مسیح موعود کے بیان کردہ بعض دو کردہ بعض دینی مسائل صحیح نہیں۔ مسائل دینی میں یہ لوگ غلطی پر قائم نہیں رہا کرتے ۔ مثلاً پیشگوئیوں میں بعض مخفی باتیں ہوتی ہیں، لیکن آخر اللہ تعالیٰ ان پر انبیا ۔ کو آگاہ فرما دیتا ہے۔ اس بات کو حضرت مسیح موعود نے بھی تحریر فرمایا کہ مامور پہلے انہی عقائد پر ہوتے ہیں ۔ جو عام طور پر لوگوں کے ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے جو غلط ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ وفات سے پہلے ان کی غلطی پر ان کو آگاہ کر دیا ہے پس انبیاء وفات تک غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ۔ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مسیح موعود کی باتوں کو رد کرتے ہیں۔ اور ہم حضرت صاحب کی تحریر کو منسوخ کرتے ہیں۔ میرے نزدیک و شخص احمدی نہیں جو مسیح موعود کی کسی بات کو منسوخ پھر اسے وہ احمدی ہونے کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ مسیح موعود کی کسی بات کو منسوخ کرے ۔ اگر میں کر سکتا ہوں ۔ تو دوسرے بھی کر سکتے ہیں پس میں نے کہیں نہیں لکھا نہ کہیں یہ بات بیان کی ہے کہ میں حضرت اقدس کی فلاں تحریر کو منسوخ کرتا ہوں ۔ ہاں میں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی فلاں بات کو منسوخ کر دیا ۔ اور یہ دونوں باتیں مختلف ہیں۔ اور مسیح موعود کو حق ہے کہ وہ اپنی کسی بات کو منسوخ کر دیں کیونکہ خدا بھی اپنی باتوں کو منسوخ کر دیتا ہے۔ کیا اس نے تو رات کو منسوخ نہیں کیا۔ خدا کے تو رات کو منسوخ کرنے سے کوئی شخص یہ استدلال کرے ہمیں بھی جو چاہوں ۔ منسوخ کر سکتا ہوں۔ غلط ہے ۔ کیونکہ یہ کہنا کہ خُدا نے تو رات کو قرآن کریم سے منسوخ کر دیا اور ہے۔ اور یہ کہنا۔ میں منسوخ کر سکتا ہوں۔ دوسری بات ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر لکھا ہے کہ مسیح ناصری بے پدر پیدا ہوتے اور خودان کو اقرار ہے کہ اس بات پر آپ وفات تک قائم رہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ کیا قرآن کا علم مسیح موعود پر ختم ہو گیا۔ اور اس کے یہ معنے بیتے ہیں کہ