خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 310

۳۱۰ جود میں ہوکہ چور ہیں اور اس خیال سے کہ کہیں یہ بچہ شور نہ جاوے اور ہم چوری نہ کرسکیں۔ اس کو قتل کر ڈالیں تو وہ شخص با وجود اپنے بچے سے محبت رکھنے کے اس کی مدد نہیں کر سکے گا کیونکہ اس کو اس بات کا کا علم ہی نہ ہو گا کہ اس کے بچے کے گلے پر چھری چل رہی ہے اور قتل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح میں۔ سمجھتا ہوں کہ سب احمدیوں کو دین سے محبت ہے ۔ اخلاص ہے۔ اور اس کے لیے قربانیاں کرتے ہیں اور کرنے کے لیے تیار ہیں ، لیکن ایسے کم ہیں جن کو علم ہو کہ دین کے لیے کسقدر قربانی کی ضرورت ہے۔ اور کیا کیا قربانیاں اس وقت درکار ہیں۔ جہاں احمد یہ سلسلہ سے باہر بہت سے ایسے لوگ ملتے ہیں کہ ان کو دین سے محبت کی بجائے نفرت ہے وہاں سلسلہ حمدیہ میں اکثر کیسے آدمی ہیں۔ جو دین سے محبت رکھتے ہیں۔ مگر وقت کی نزاکت سے بے خبر ہیں جس طرح کہ بیٹے کے قتل ہونے پر بے خبر اپ آرام سے بیٹھا رہتا ہے ۔ اسی طرح یہ لوگ دین کے معاملہ میں غفلت میں ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اسلام سے زیادہ آج کوئی مظلوم نہیں ۔ اسلام کی اسی مظلومیت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ۔ اسے خدا ہر گز مکن شاد آن دل تاریک را آنکه او را فکیر دین احمد مختار نیست نی تو کبھی بطور خود بدعانہیں کرتا ۔ نہ ہی کسی کا بد خواہ ہوتا ہے۔ مگر آپ کی زبان سے اس شعر کا نکلنا ثابت کرتا ہے کہ اس وقت دین کی کیا حالت ہے۔ اگر آپ دین کی ایسی ہی قابل رحم حالت نہ دیکھتے اور یونہ کی ہے۔ اگر آپ دین کی ایسی رحم معلوم کرتے کہ جب تک انتہائی سرگرمی کے ساتھ دین کے معاملہ میں لوگوں کو چونکایا نہیں جاتے گا۔ اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکے گا۔ تو آپ یہ بھی نہ فرماتے ہیں اس وقت آپ نے یہ شعر ضرورت کو مد نظر رکھ کر کہا جو ایسے وقت بھی ۔ بیدار نہ ہو۔ بہتر ہے کہ وہ مٹا دیا جائے۔ پس یہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے یہ کہا گیا۔ ورنہ انبیا۔ بد دعا میں سبقت نہیں کیا کرتے۔ لیکن افسوس جماعت کے لوگوں نے اس ذمہ داری کو نہ دیکھا۔ اگر دنیا آنکھیں کھول کر دیکھتی تو معلوم ہوتا کہ کس قدر چھریاں ہیں جو اسلام کی گردن پر دھری ہوتی ہیں ۔ اگر خدا کی حفاظت نہ ہو۔ تو اس کے مٹ جانے میں کوئی کسر نہیں رہ گئی۔ کہا کرتے ہیں ۔ یک انار و صد بیمار ۔ مگر اسلام کی اس سے بھی گئی گزری حالت ہے ۔ ہر طرف سے لوگوں نے اس کو تختہ مشق بنا رکھا ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شکار ہو اور کروڑوں شکاری اس کے پیچھے ہوں ۔ اگر خدا کی مدد کا ہاتھ اسلام کے ساتھ نہ ہو تو استقدر دشمنوں سے کیسے نجات ہو سکتی ہے۔ ?