خطبات محمود (جلد 6) — Page 31
7 کامیابی کیلئے صحیح ذرائع کی ضرورت ہے فرموده ۱۵ فروری شاشته ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائی :- وَلَا يَأْتِلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبِي وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلْيَعْفُوا وَلَيَصْفَحُوا لَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ ( النور : ٢٣) بعد ازاں فرمایا :- " میں نے پہلے دو جمعوں میں اس امر کے متعلق کہ مومن کو اپنے ایمان کی درستگی کیلئے نہ صرف اپنے اعمال پر اجمالی طور پر نظر ڈالنی چاہتے بلکہ تفصیلی طور پر دیکھنا چاہیتے کیونکہ اکثر دفعہ محض اجمالی نظر پر اکتفا کرنا تفصیل میں جاکر غلطیاں پیدا کر دیتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اجمال میں تو ایک بات درست نظر آتی ہے مگر تفصیل میں جا کر اس میں غلطیاں ہوتی ہیں ۔ اور جب تک تمام ذرائع صیحیح اور پورے نہ ہوں اس وقت تک نتائج غلطہ یا ناقص نکلا کرتے ہیں۔ اور جب تفصیل سے دیکھا جائے تو نقائص نظر آجاتے ہیں۔ مثلاً کوئی بیمار ہو جو اپنی عام کمزوری کو دیکھ کر بغیر کسی طبیب کو دکھاتے جو کامل معائنہ بھی کرے اور مریض کے ہر عضو کو دیکھ کر نقص کا پتہ لگائے اور پھر علاج کرے۔ ایک مقوی دوائی شروع کر دے۔ مگر با وجود اس دوائی کے اس کی طاقت بحال نہ ہو تو اس دوائی کا کچھ قصور نہیں ہو گا۔ مثلاً فرض کرد کمزوری تو ہے قلب میں اور وہ دوائی یا علاج ہے جگر کا۔ یا مرض ہے کان سے متعلق اور دوائی ڈالی ہے ۔ یا سنتے گئی آنکھ میں تو مرض کیونکر دور ہو سکتا ہے ۔ یا اس طرح کسی اور عضو میں تکلیف ہو لیکن علاج ان کی بجائے کسی اور کا کیا جائے تو صحت نہیں ہوگی۔ صحت اس وقت ہوگی جبکہ اصل نقص کو معلوم کر کے علاج کیا جائے گا۔ یا کسی خاص عضو میں مرض